پاکستان یاد رکھے کراچی کا راستہ سر کریک سے گزرتا ہے، بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھبکی
پڑوسی ملک نے نقشے پر رہنا ہے تو دہشت گردی کی حمایت بند کرے :بھارتی آرمی چیف
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی فوجی اور سیاسی قیادت بوکھلاہٹ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دھمکیاں دینے لگی۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا پاکستان یاد رکھے کراچی کا راستہ سر کریک سے گزرتا ہے، اگر پاکستان نے سرکریک سیکٹر میں کوئی مہم جوئی کی تو انڈیا کا شدید ردعمل پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔ریاست گجرات میں بھج فوجی اڈے کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سرکریک سیکٹر میں اپنا فوجی عمل دخل بڑھا رہا ہے اور انفرا سٹرکچر بھی تعمیر کر رہا ہے جو اْن کے بقول ’پاکستان کی بدنیتی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔راج ناتھ نے مزید کہا انڈیا کی جانب سے مذاکرات کی متعدد کوششوں کے باوجود پاکستان نے 78 برسوں سے سرکریک کے علاقے کو متنازعہ بنایا ہوا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ 1965 کی جنگ میں انڈین فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور 2025 میں پاکستان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرکریک سے ہوتی ہوئی ایک سڑک کراچی تک جاتی ہے۔اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے سٹریٹجک اہمیت کے حامل سرکریک سیکٹر میں دو اہم تنصیبات کا ورچوئل افتتاح بھی کیا، جن میں ٹئی ڈل انڈیپنڈنٹ برتھنگ فسیلٹی اور مشترکہ کنٹرول سنٹر شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی مدد سے ساحل پر سکیورٹی آپریشنز بہتر ہوں گے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف فوری ردعمل دینے کی انڈین صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔انھوں نے ’آپریشن سندور‘ میں انڈین فوج کی کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ دورانِ جنگ انڈین فوج نے دفاعی نیٹ ورک میں پاکستانی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا کو بیرونی جارحیت، دہشت گرد تنظیموں اور سائبر وار فیئر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔خیال رہے پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کے علاقے میں سمندری حدود پر تنازع ہے اور کئی بار دونوں ممالک نے اس معاملے پر مذاکرات بھی کیے ہیں جو کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔جنوری 2006 میں دونوں ممالک کے ماہرین نے سرکریک کے علاقے کا مشترکہ سروے کروایا تھا ، 2007 میں ہونے والی ملاقات میں بعض ایسے نئے نکات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد دوبارہ سروے کرنے فیصلہ کیا گیا تھا۔سرکریک کی حد بندی سے متعلق انڈیا کا موقف رہا ہے کہ بائونڈری یعنی سرحد، کھاڑی کے وسط تک ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کھاڑی کے مشرقی کنارے پر سرحد واقع ہے۔دریں اثنا بھارت کے آرمی چیف جنرل اوپندر دویدی نے راجستھان میں فوجیوں سے خطاب کے دوران ہرزہ سرائی کی کہ اگر پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود رہنا چاہتا ہے تو دہشتگردی کے حمایت روک دے۔ آپریشن سندور میں فوج نے جس ضبط کا مظاہرہ کیا وہ آئندہ نہیں کیا جائے گا۔جنرل اوپندر دویدی نے بھارتی فوجیوں کو کسی بھی ایکشن کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ نے پریس کانفرنس میں بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ مئی میں ہونے والے پاک بھارت تنازع میں بھارت نے پاکستان کے 5 لڑاکا طیارے تباہ کیے۔امر پریت سنگھ نے کہا کہ بھارت نے جن طیاروں کو تباہ کیا ان میں ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے شامل ہیں۔صحافیوں نے امرپریت سنگھ سے پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرائے جانے کا سوال کیا جس کا بھارتی ائیر چیف نے کوئی جواب نہیں دیا۔