لاہور میں بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں کے باعث ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم رات 9 بجے کے بعد ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے فضائی آلودگی میں کمی اور ماحول کی بہتری کا رجحان شروع ہوگیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سموگ پر قابو پانے کے لیے مختلف علاقوں میں اقدامات مسلسل جاری ہیں۔ ہائی کیو ایریاز میں خصوصی سموگ گنز کے ذریعے آپریشن کیا جا رہا ہے جبکہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی جاری ہے۔مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 259 صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔ خلاف ورزیوں کے مرتکب 11 صنعتی یونٹس کو سیل کر دیا گیا جبکہ ذمہ داران پر مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔سینئر صوبائی وزیر نے فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف جاری کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں اب تک ایسے 289 واقعات کے شواہد سامنے آئے ہیں، جن کے خلاف 115 ایف آئی آرز اور استغاثے درج کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 29 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ چار روز کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کے 80 واقعات رپورٹ ہوئے، جن پر کارروائی کرتے ہوئے 42 مقدمات اور استغاثے درج کیے گئے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو 5 لاکھ 85 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔مریم اورنگزیب نے مزید بتایا کہ پنجاب میں چاول کی فصل کی کٹائی کا عمل 74.42 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ صوبے بھر میں 47 لاکھ 12 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر چاول کی فصل کی برداشت مکمل کر لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے بجائے جدید زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سپر سیڈر مشینوں کے ذریعے اب تک 2 لاکھ 24 ہزار 866 ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت مکمل کی جا چکی ہے۔