فیصل آباد کے علاقے مدینہ ٹاؤن میں پنک موبائل پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے طالبہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے طالبہ کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا اور واقعے کی قانونی کارروائی شروع کر دی۔ترجمان ٹریفک پولیس پنجاب کے مطابق بی ایس آئی ٹی کی طالبہ نے پنک موبائل پولیس اسٹیشن میں ہراسگی سے متعلق شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت موصول ہونے پر متعلقہ پولیس ٹیم نے فوری اقدامات کیے اور ایس ایچ او مدینہ ٹاؤن نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ترجمان ٹریفک پولیس پنجاب نے موبائل پولیس اسٹیشنز کی مجموعی کارکردگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اکتوبر کے دوران صوبے بھر میں قائم موبائل پولیس اسٹیشنز کو مجموعی طور پر 2 ہزار 663 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 2 ہزار 348 شکایات پر شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کیا گیا جبکہ مختلف نوعیت کے جرائم سے متعلق 900 سے زائد ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔ترجمان کے مطابق گزشتہ ماہ خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں پر 130 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ موبائل پولیس اسٹیشنز کے ذریعے شہریوں کو مختلف پولیس سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے دوران موبائل پولیس اسٹیشنز کے ذریعے 20 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 900 سے زائد کرایہ داروں اور 5 ہزار سے زائد ملازمین کی رجسٹریشن مکمل کی گئی۔ترجمان نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ 31 ہزار سے زائد شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی سہولت فراہم کی گئی، جس سے شہریوں کو پولیس سے متعلق امور کے لیے دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے سے بھی نجات ملی۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا اور پولیس خدمات ان کی دہلیز تک پہنچانا محکمہ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ موبائل پولیس اسٹیشنز کے قیام کا مقصد عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر خواتین کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ خواتین بلاخوف اپنی شکایات درج کروانے اور قانونی معاونت حاصل کرنے کے لیے پنک موبائل پولیس اسٹیشنز سے رابطہ کر سکتی ہیں۔