’ایران کے خلاف کارروائی کا وقت آگیا‘، ٹرمپ نے ’شدید ضرب‘ لگانے کی دھمکی دے دی

’ایران کے خلاف کارروائی کا وقت آگیا‘، ٹرمپ نے ’شدید ضرب‘ لگانے کی دھمکی دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا اور اس کارروائی کے دوران ایران کو شدید ضرب بھی لگائی جا سکتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کے بعض علاقوں پر ممکنہ امریکی حملوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر گفتگو کی۔ اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک بڑی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ایران پر سخت حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر ٹرمپ کا سخت مؤقف

انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا اور امریکا اس مقصد کو روکنے کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ٹرمپ کے بیان میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کے ساتھ ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ بھی نمایاں رہا، تاہم انہوں نے انٹرویو میں کسی مخصوص حملے کی تاریخ، مقام یا حتمی منصوبے کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

وسط مدتی انتخابات میں شکست پر بھی گفتگو

فاکس نیوز کو انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی خراب کارکردگی پر بھی بات کی اور اعتراف کیا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ووٹرز کو ایندھن کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پسند نہیں آیا، جس کا اثر انتخابی نتائج میں بھی نظر آیا۔ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ انتخابی مہم کے دوران اہم عوامی مسائل میں شامل رہا۔

ایران امریکا کشیدگی میں مزید شدت کا امکان

ٹرمپ کے حالیہ بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت مؤقف اور ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کرتا ہے۔