اسرائیلی فورسز کی کارروائی، فلسطینی فٹبالر حراست میں

اسرائیلی فورسز کی کارروائی، فلسطینی فٹبالر حراست میں

اسرائیلی فورسز نے فلسطینی فٹبال ٹیم کی خاتون کھلاڑی کو حراست میں لے لیا ہے، جس پر فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن  نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے فلسطینی کھلاڑیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا حصہ قرار دیا ہے۔

پی ایف اے کے مطابق 20 سالہ رند حلوانی کو منگل کی شام گرفتار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی کھلاڑی پہلے ہی مختلف پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی روز مقبوضہ مغربی کنارے سے مزید چار فلسطینی خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے بعد خطے میں انسانی حقوق اور سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔اسرائیلی فوج  کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کی گئی چار خواتین پر "دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے" کا شبہ ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی تنظیم "پرزنرز کلب" کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 89 فلسطینی خواتین قید ہیں، جن میں تین نابالغ اور تین حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ کھیلوں سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان ہے جو نہ صرف کھیل کے میدان کو متاثر کر رہا ہے بلکہ فلسطینی نوجوانوں کے مستقبل پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد فلسطینی علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی ردعمل آنے کا امکان ہے۔