امریکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھے،پاک بھارت مکالمے کے آغاز میں اپنا کردار ادا کرے ، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے فیصلے کا نوٹس لے
پاکستان نے 6 بھارتی طیارے مار گرائے، بھارتی حکومت کو یہ تسلیم کرنے میں ایک ماہ لگا ‘ بات چیت اور سفارت کاری سے ہم کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں:سربراہ سفارتی مشن
نیویارک (آئی این پی ‘مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے اعلی سطح کے سفارتی مشن نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا اور پانی روکنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، بلاول بھٹو زرداری نے پا ک بھارت جنگ بندی میں سہولت کاری پر امریکی انتظامیہ، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھے ،بھارت اور پاکستان کے درمیان مکالمے کے آغاز میں اپنا کردار ادا کرے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بھارتی فیصلے کا نوٹس لے ۔ جبکہ اسلامی ممالک کی تنظیم( او آئی سی )نے جنوبی ایشیا میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے سمیت معاہدوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔تفصیل کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب ڈورتھی شیا سے بلاول بھٹو کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے ملاقات کی اور بتایا کہ بھارت کی طرف سے دریائوں کا پانی روکنا اعلان جنگ ہو گا، مودی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے کروڑوں انسانوں کو سزا دینا چاہتا ہے جبکہ پانی روکنے کی دھمکیاں یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔بلاول بھٹو نے 22 اپریل 2025 کو ہوئے پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال سے اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر ڈوروتھی شیا کو آگاہ کیا اور اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت نے بغیر کسی قابلِ اعتبار تحقیق یا مصدقہ شواہد کے فوری طور پر پاکستان پر الزام تراشی کی۔امریکی مندوب کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں بہت سے تنازعات کے دوران سندھ طاس معاہدہ قائم رہا، بغیر تحقیق کے پاکستان پرالزام تراشی کے بعد حملہ کرنا بذات خود سوالیہ نشان ہے ، بھارتی موقف کو غلط ثابت کرنے کیلئے اس کے موقف کو من و عن بیان کر دینا کافی ہے۔بلاول بھٹو نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رکھی جائے نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں بلاول بھٹو زرداری نے چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا پاکستان نے 6 بھارتی طیارے مار گرائے، بھارتی حکومت کو یہ تسلیم کرنے میں ایک مہینہ لگا کہ ہم نے ان کے طیارے مار گرائے ہیں۔ ہم نے جنگ بندی کے حصول میں بھی بین الاقوامی برادری کی شمولیت پر انحصار کیا، بات چیت اور سفارت کاری سے ہم کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی برادری اسی طرح کردار ادا کرے تو جنوبی ایشیاء میں دائمی امن قائم ہو سکتا ہے، پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے، ہم امن چاہتے ہیں، لیکن امن تب تک ممکن نہیں جب تک ہم ڈائیلاگ میں شامل نہ ہوں۔