پنجاب میں مانع حمل ادویات کا استعمال 40.1 فیصد تک پہنچ گیا

پنجاب میں مانع حمل ادویات کا استعمال 40.1 فیصد تک پہنچ گیا

بیورو آف شماریات پنجاب نے 2024ء کے فیملی پلاننگ سروے کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے مثبت رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں مانع حمل ادویات کے استعمال میں 34.4 فیصد سے بڑھ کر 40.1 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ خواتین اپنے خاندان کی منصوبہ بندی اور صحت کے حوالے سے آگاہی رکھتی ہیں اور مانع حمل ادویات استعمال کر رہی ہیں۔مزید یہ کہ، سروے میں اوسط شرحِ پیدائش میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ پنجاب میں اوسط شرحِ پیدائش 3.7 سے کم ہو کر 3.5 ہو گئی ہے، جو کہ ایک مثبت تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 15 سے 49 سال کی عمر کی خواتین میں بچوں کی پیدائش کی شرح بھی 40 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد ہو گئی ہے، جو کہ خاندانی منصوبہ بندی کی کامیابی اور عوامی سطح پر آگاہی کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں فیملی پلاننگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور رجحانات دکھائی دے رہے ہیں، جو حکومتی اقدامات اور عوامی آگاہی کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ لوگ اپنی صحت اور خاندان کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے مانع حمل ادویات اور دیگر اقدامات کو اپنانا شروع کر چکے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی صحت پر مثبت اثرات پڑ رہے ہیں بلکہ یہ ریاستی سطح پر بھی ایک مستحکم سماجی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔