چین میں پھیلنے والی ایچ ایم پی وی وباء پر پاکستان کی نگرانی

چین میں پھیلنے والی ایچ ایم پی وی وباء پر پاکستان کی نگرانی

چین میں ایچ ایم پی وی (ہیومن میٹاپنیو وائرس) کی وبا کے پھیلنے کے بعد، پاکستان میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کٹس دستیاب کر دی گئی ہیں۔

 قومی ادارۂ صحت (NIH) کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایچ ایم پی وی کا کوئی سیمپل ٹیسٹ کے لیے پاکستان نہیں آیا ہے، مگر بارڈر ہیلتھ سروسز کا عملہ پاکستان آنے والے مشتبہ یا بیمار افراد کے سیمپلز وفاقی اور صوبائی لیبز کو بھیج رہا ہے تاکہ اس وائرس کی تصدیق کی جا سکے۔قومی ادارۂ صحت نے اس وائرس کے حوالے سے ایک اجلاس منگل کو این سی او سی (نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر) میں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید اقدامات کے لیے این سی او سی کی جانب سے مشاورت کی جائے گی۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے فی الحال ایچ ایم پی وی وائرس سے متعلق کوئی خاص ایڈوائزری جاری نہیں کی ہے، لیکن چین میں اس وائرس کی تیزی سے پھیلنے کے بعد، پاکستان میں اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ وائرس نزلہ، کھانسی اور کورونا جیسی علامات پیدا کرتا ہے، اور متاثرہ افراد میں سانس کی تکالیف بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ وائرس مخصوص موسمی حالات میں تیزی سے پھیلتا ہے، اور حالیہ مہینوں میں پاکستان میں موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے بھی یہ وائرس مزید تشویش کا سبب بن رہا ہے۔پاکستانی حکام کی جانب سے چین میں اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے اثرات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، تاکہ اس وبا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جا سکیں۔