سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
دفاعی ماہرین خبردارکرتے ہیں کہ ایسے معاہدے برسوں میں طے پاتے ہیں۔جذباتی یاجلدبازی پرمبنی فیصلے مستقبل میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں،سپلائی چین ،تکنیکی تعاون،سفارتی دباجیسے مسائل پیداکرسکتے ہیں۔ڈیلیوری میں تاخیر،سپلائی چین میں رکاوٹ، سفارتی دباپالیسی کے تحت ان خطرات کیلئے پیشگی حکمتِ عملی تیارکرناضروری ہے۔اس لئے حکمت اورتدبرلازم ہے۔
چونکہ اس منصوبے کے اہم حصے چین سے آتے ہیں،اس لیے پاکستان کوایسے معاہدوں سے اجتناب اورگریزکرناہوگاجوسپلائی یا ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی استعدادسے بڑھ کرہوں یاتکنیکی انحصارمیں خلل ڈال سکیں۔یہ معاملہ صنعتی حقیقت پسندی کا تقاضاکرتاہے،نہ کہ محض سیاسی جوش کا۔اس لئے پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں کامیابی کاتقاضہ ہے کہ سپلائی چین کیلئے فول پروف نظام مرتب کیاجائے۔
اکثرتجزیہ کارمتفق ہیں کہ چین اس منصوبے میں سینئرپارٹنرہے اوروہ ہرسطح پرفروختی عمل پرگہری نظررکھے گایہ فطری بھی ہے اورناگزیربھی۔اس کامطلب یہ ہے کہ حتمی منظوری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اوربرآمدی پالیسی میں چین کاکردار فیصلہ کن ہوگا۔ پالیسی سطح پریہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ چین اس منصوبے میں سینئرپارٹنرہے۔برآمدی فیصلے دوطرفہ مشاورت سے ہوں گے اور حتمی منظوری مشترکہ ہوگی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام ارڈرزمیں کامیابی کاسہرارب کریم کی عنایات،پاک فضائیہ اورپاک افواج کے اس دلیرانہ صلاحیت کا ہے جواس نے مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں ثابت کیا۔
سی آئی جی آئی کے سینیئر فیلواینارتانجن کے مطابق،پاکستان طیارہ فروخت کرسکتاہے مگرٹیکنالوجی کاکنٹرول چین کے پاس ہی رہے گا۔یوں یہ ایک مشترکہ ایکسپورٹ ماڈل ہوگا جس میں چین کی بالادستی مسلمہ ہے۔اس سے حساس ٹیکنالوجی کے غیرمجازپھیلاکو روکاجاسکے گا۔چین اورپاکستان کویہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں کسی تیسرے فریق کے ذریعے اس کی حساس ٹیکنالوجی مغربی ممالک تک نہ پہنچ جائے۔اسی لیے ہر معاہدہ پاک بیجنگ کی نگرانی میں ہوگا۔ یہ خدشہ عالمی طاقتوں کی ٹیکنالوجی وار کا حصہ ہے اور اسی لیے پاک بیجنگ ہر معاہدے پرمشترکہ کڑی نظررکھیں گے۔اس خدشے کے پیشِ نظربرآمدی پالیسی سخت کنٹرول میں رکھی جائے گی۔
وزیرِدفاعی پیداوارکے الفاظ میں کوئی بھی ریاست اپنی بندوق دشمن کونہیں بیچتی۔جے ایف-17صرف دوست ممالک کیلئیہے،اورہر فیصلہ جیوپولیٹیکل تناظرمیں کیاجاتاہے۔ پاکستانی وزیرکے مطابق جے ایف-17ہرملک کیلئینہیں۔یہ فیصلہ جیوپولیٹیکل حالات،دوستی اوردشمنی کی بنیادپرکیاجاتاہے۔یہ ریاستی دانش ہے کہ کوئی قوم اپنی دفاعی قوت دشمن
کومنتقل نہیں کرتی۔پالیسی کے مطابق جے ایف-17صرف دوست اورتزویراتی شراکت دارممالک کوفروخت کیاجائے گا۔جیوپولیٹیکل عوامل ہرمعاہدے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس ہونے والے پاکسعودی دفاعی معاہدے کی تفصیلات صیغ راز میں ہیں۔یہ معاہدہ اعلی ترین ریاستی سطح پرطے پایا، اورجہاں اس کی نوعیت اس کی حساسیت کی غمازہے وہاں اس کی تزویراتی اہمیت کوظاہرکرتاہے۔بین الاقوامی میڈیامیں ترکی کے ممکنہ کردارکی بازگشت سنائی دیتی ہے،اگرچہ سرکاری تصدیق نہیں،مگرسرکاری سطح پرخاموشی اختیارکی گئی ہے۔ترکی،چین، سعودی عرب اورآذربائیجان پاکستان کے وہ شراکت دارہیں جن کے ساتھ تعاون محض وقتی نہیں بلکہ تزویراتی اورفطری ہے اور مستقبل میں مشترکہ منصوبے ممکن ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ترکی پاکستان میں ڈرون سازی میں دلچسپی رکھتاہے۔وزیرِ دفاعی پیداوارنے اس کی نہ تردیدکی نہ تصدیق،البتہ یہ ضرورواضح کیاکہ پاکستان میں یواے ویزاورڈرون ٹیکنالوجی میں نجی شعبہ فعال اوربھرپورکام کررہاہے۔یہ رجحان دفاعی صنعت کی ڈی سینٹرلائزیشن اورٹیکنالوجی کے پھیلاکی علامت ہے۔یہ خاموش انقلاب کی علامت ہے۔
اس سلسلے میں پالیسی سفارشات کومدنظررکھتے ہوئے ضروری ہے کہ برآمدی معاہدوں میں تدریج اورحقیقت پسندی اپنائی جائے۔چین کے ساتھ کوآرڈینیشن کوادارہ جاتی شکل دی جائے۔پیداواری صلاحیت میں بتدریج اضافہ کیا جائے اورصرف قابلِ اعتماد اوردوست ممالک کوفروخت کی اجازت دی جائے۔ ٹیکنالوجی کنٹرول اورانفارمیشن سکیورٹی کواولین ترجیح دی جائے۔جے ایف-17تھنڈرکی برآمدات پاکستان کیلئیمعاشی،عسکری اورسفارتی مواقع پیداکرتی ہیں،تاہم یہ عمل محتاط پالیسی فریم ورک،چین کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اورحقیقت پسندانہ اہداف کامتقاضی ہے۔درست حکمتِ عملی کے ساتھ یہ منصوبہ پاکستان کوعالمی دفاعی منڈی میں ایک معتبر شراکت داربناسکتاہے۔
یوں جے ایف-17تھنڈرمحض ایک جنگی لڑاکا طیارہ نہیں،بلکہ پاکستان کی عسکری خودمختاری وخودداری،صنعتی بلوغت سفارتی حکمت،عالمی سیاست میں محتاط پیش قدمی اوراسلامی دنیا میں اس کے ابھرتے ہوئے کردارکااستعارہ ہے۔یہ وہ پروازہے جوفولادکے پروں پرنہیں،بلکہ تدبر،اعتماداورتاریخ کے شعورپربلندہورہی ہے۔یہ منصوبہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ دفاع صرف ہتھیارکانام نہیں بلکہ تدبر،شراکت اوروقت کی آزمائش کامجموعہ ہے۔
جے ایف-17تھنڈرکی برآمدات سے متعلق بحث دراصل پاکستان کے اس بڑے سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ وہ عالمی سیاست میں خود کومحض ایک خریدارریاست کے طورپر دیکھنا چاہتاہے یاایک ذمہ دار،باخبراورخودمختاردفاعی شراکت دارکے طورپر۔یہ طیارہ فولاد اورالیکٹرانکس کامجموعہ ضرورہے،مگراس سے وابستہ فیصلے قومی وقار،سفارتی توازن اورمستقبل کی سلامتی سے عبارت ہیں۔
یہ پالیسی پیپراس نتیجے پرپہنچتاہے کہ جے ایف-17کی فروخت پاکستان کیلئیایک موقع بھی ہے اورآزمائش بھی۔ موقع اس لیے کہ یہ منصوبہ دفاعی معیشت کومضبوط کرسکتاہے، دوست ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کوگہراکرسکتاہے اورعالمی سطح پرپاکستان کی صنعتی ساکھ کوبہتربناسکتاہے۔اورآزمائش اس لیے کہ کسی بھی غیرمحتاط معاہدے کی صورت میں تکنیکی انحصار،سفارتی دبا اورپیداواری مسائل قومی مفاد کونقصان پہنچاسکتے ہیں۔
چین کی حیثیت ایک سینئرپارٹنرکے طورپراس پورے عمل میں مرکزی رہے گی،اوریہ حقیقت پاکستان کوکسی ابہام میں نہیں رکھنی چاہیے۔اسی طرح،برآمدات کوصرف ان ممالک تک محدودرکھناجوپاکستان کے دوست اورتزویراتی شراکت دارہیں،نہ صرف ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے بلکہ ریاستی اخلاقیات کاتقاضابھی۔
بالآخر،جے ایف-17تھنڈرکی کامیابی کامعیارصرف فروخت ہونے والے طیاروں کی تعدادنہیں ہوگا،بلکہ یہ دیکھاجائے گاکہ آیاپاکستان نے اس عمل میں تدبر،صبر،حقیقت پسندی اورریاستی حکمت کوبرقراررکھایانہیں۔دفاعی طاقت وہی معتبرہوتی ہے جوشورنہیں مچاتی، اورپالیسی وہی پائیدارہوتی ہے جووقت کی کسوٹی پرپوری اترے۔اگرجے ایف17 کی برآمدات اسی متوازن پالیسی فریم ورک کے تحت آگے بڑھیں،تویہ منصوبہ محض ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹجک بلوغت کی ایک روشن مثال بن سکتاہے۔