دفاع، دانش اور فیصلہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اب محض سرحدوں کے تحفظ یاعسکری طاقت کے مظاہرے تک محدود نہیں رہی،بلکہ یہ ٹیکنالوجی، معیشت،سفارت اوراسلحہ جاتی خودکفالت کے نازک امتزاج کانام بن چکی ہے۔آج وہی ریاستیں باوقارسمجھی جاتی ہیں جواپنی دفاعی ضروریات کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں اپنی عسکری مصنوعات کی اخلاقی،سیاسی اور تزویراتی قدربھی منواسکیں۔اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کاجے ایف-17تھنڈرپروگرام ایک غیرمعمولی سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔
یہ منصوبہ محض ایک لڑاکاطیارے کی تیاری کانام نہیں،بلکہ یہ پاکستان کی دفاعی فکرکے اس ارتقائی سفرکی علامت ہے جودرآمدی انحصارسے نکل کرمشترکہ پیداوار،ٹیکنالوجی کی شراکت اورمحدودمگرباوقاربرآمدات کی سمت بڑھ رہاہے۔چین کے ساتھ اس اشتراک نے پاکستان کونہ صرف عسکری اعتبارسے مضبوط کیابلکہ اسے عالمی دفاعی سیاست میں ایک ذمہ دارفریق کے طورپرمتعارف کرایا  جے ایف-17 تھنڈر کی ممکنہ برآمدات سے متعلق حالیہ مذاکرات نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے:
٭کیاپاکستان اپنی پیداواری صلاحیتوں کے مطابق معاہدے کرے گا؟
٭چین کاکردارکہاں تک فیصلہ کن ہوگا؟
٭کن ممالک کویہ طیارہ فراہم کیاجاناچاہیے اورکن کونہیں؟
٭اورسب سے بڑھ کریہ کہ دفاعی تجارت میں قومی سلامتی اورجیوپولیٹیکل توازن کوکیسے برقراررکھاجائے؟
یہ دفاعی پالیسی پیپرانہی سوالات کے منظم،تحقیقی اورریاستی نقط نظرسے جوابات فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔اس کا مقصدنہ تومحض فنی تفصیلات بیان کرناہے اورنہ ہی کسی وقتی سیاسی بیانیے کی توثیق،بلکہ ایک واضح،محتاط اورقابلِ عمل پالیسی فریم ورک پیش کرناہے،جوریاستِ پاکستان کو مستقبل کے دفاعی فیصلوں میں رہنمائی فراہم کرسکے۔
پاکستان کی جانب سے جے ایف-17تھنڈرطیاروں کی فروخت کیلئیمتعددممالک کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق اس حقیقت کی غمازہے کہ ملک کی دفاعی صنعت اب محض اندرونی ضرورت تک محدودنہیں رہی بلکہ عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی شعوری کوشش کررہی ہے۔پاکستان نے دفاعی خودانحصاری کے مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے جے ایف-17 تھنڈرکومحض قومی دفاع تک محدود رکھنے کی بجائے بین الاقوامی دفاعی منڈی میں متعارف کرانے کی پالیسی اختیارکی ہے اورپاکستان کی جانب سے اس کااعتراف دراصل قومی دفاعی صنعت کے اس ارتقائی مرحلے کی علامت ہے جہاں عسکری خودکفالت سفارتی بصیرت سے ہم آغوش ہورہی ہے۔اس تناظرمیں متعدد ممالک کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کی تصدیق ایک منظم برآمدی حکمتِ عملی کی طرف پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ بات پوری صراحت سے کہی گئی ہے کہ ایسے ہرمعاہدے میں چین کی رضامندی شامل ہوگی، جو اس منصوبے کی مشترکہ روح اوراس کے تزویراتی مزاج کافطری تقاضاہے۔یہ وضاحت کہ ان معاہدوں میں چین کی مرضی شامل ہوگی،دراصل اس منصوبے کی مشترکہ نوعیت،تکنیکی انحصاراورتزویراتی شراکت کافطری تقاضاہے،جسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات جاری ہیں،مگریہ وہ معاملات نہیں جواخباری سرخیوں میں پلک جھپکتے طے پاجائیں۔دفاعی معاہدے صبر،اعتماداوروقت مانگتے ہیں۔کئی ممالک کی دلچسپی اس طیارے کی ساکھ کاثبوت ہے،مگرفیصلہ وہی معتبرہوتاہے جو خاموشی سے پختگی اختیارکرے۔دفاعی پیداوارکے وزیرکے مطابق یہ مذاکرات جاری ہیں مگران میں وقت لگے گا۔دفاعی معاہدے محض تجارتی سودے نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے قومی سلامتی،علاقائی توازن اور عالمی طاقتوں کی رضامندی کارفرماہوتی ہے۔یہ مذاکرات ابتدائی اوردرمیانی مراحل میں ہیں اوران کی تکمیل میں وقت درکارہوگا۔دفاعی معاہدوں کی نوعیت کے پیشِ نظرفوری فیصلوں کے بجائے تدریجی پیش رفت کوترجیح دی جارہی ہے۔
جے ایف-17تھنڈربلاک تھری محض ایک لڑاکاطیارہ نہیں بلکہ جدیدعسکری فکرکامجسم اظہاراور4.5جنریشن کاملٹی رول فائٹرکہاجاتا ہے،جوجدید فضائی جنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔یہ اے ای ایس اے ریڈار،لانگ رینج بی وی آرصلاحیت،اور4.5جنریشن ملٹی رول خصوصیات اسے فضائی جنگ کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک مثرقوت بناتی ہیں،جودفاعی حکمتِ عملی کووسعت اور گہرائی عطاکرتی ہے اوریہ ریڈارجودشمن کوپہلے دیکھنیاورنشانہ بنانے کی بھرپورصلاحیت کامالک ہے۔یہ طیارہ بی وی آرلانگ رینج میزائل، ملٹی مشن کردار(فضابہ فضا،فضابہ زمین، الیکٹرانک وارفیئر)کی صلاحیت کاحامل ہے اور یہ خصوصیات اسیعلاقائی اورعالمی سطح پردیگرلڑاکاطیاروں کے برابرلاکھڑاکرتی ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں لیبیا،سوڈان،بنگلہ دیش،انڈونیشیااورسعودی عرب کے ناموں کی تصدیق ہوئی ہے،مگروزیرِدفاعی پیداوار نے کسی ملک کانام لینے سے گریزاور دانش مندانہ خاموشی اختیارکرتے ہوئے واضح کیاکہ یہ ریاستی رازہیں۔ان کایہ مقف سیاسی طور پربالکل درست ہے تاکہ سفارتی حساسیت اورمذاکراتی پوزیشن متاثرنہ ہو۔پاکستانی ترجمان نے بڑے پراعتمادلہجے میں یہ بتایاکہ جب جہازروانہ ہوں گے تودنیاخودجان لے گی کہ اعتمادکن ہاتھوں میں منتقل ہوا۔
جے ایف-17تھنڈرکومئی7 تا10کے دوران پاک بھارت کشیدگی میں عملی طورپرآزمایاگیا۔اس کی کارکردگی وہ آئینہ اورسندبنی جسے دنیاکی فضائی افواج نے خاموشی سے نوٹ کیااوردنیاکی فضائی افواج نے ایک ابھرتی ہوئی قوت کاحیرت انگیزعکس دیکھا۔اگرچہ بھارتی طیارے گرانے کے دعوے اپنی جگہ، مگراصل کامیابی وہ تاثرتھاجوعالمی عسکری حلقوں میں قائم ہوااوربھارتی طیاروں کی تباہی نے اس جہازکی جنگی افادیت کوعالمی سطح پراجاگرکیا۔مئی میں ہونے والی پاکبھارت کشیدگی کے دوران جے ایف-17کی آپریشنل کارکردگی نے اس طیارے کی جنگی صلاحیت کوعملی طورپر ثابت کیا۔اس تجربے نے عالمی دفاعی اداروں میں اس طیارے کی ساکھ میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔
جہاں مغربی ساختہ لڑاکا طیاروں کی قیمت250تا350ملین ڈالرہے،وہاں جے ایف-17کی قیمت40 تا50ملین ڈالرہے۔جوایک متوازن، مثراورقابلِ اعتماد متبادل بن کرابھرتاہے۔یہ قیمت نہیں،ایک فلسفہ ہیکم وسائل میں زیادہ صلاحیت اوریہ فرق محض عددی نہیں بلکہ دفاعی فلسفے کافرق ہے۔کم وسائل میں قابلِ اعتماددفاع کایہی عنصر ترقی پذ یر ممالک کواس طیارے کی طرف راغب کرتا ہے۔
یہ طیارہ پاکستان اورچین کی مشترکہ کاوش ہے؛کچھ پرزے چین میں بنتے ہیں اورکچھ پاکستان میں۔لہذاہرفروختی معاہدے میں چین کی شمولیت ناگزیرہے ۔یہ شمولیت ٹیکنالوجی کے تحفظ،سفارتی توازن اورعالمی طاقتوں کے ردِعمل کے نظم کیلئیضروری ہے۔یہ شمولیت محض رسمی نہیں بلکہ تکنیکی،سفارتی اور تزویراتی نگرانی کامظہرہے۔
چونکہ جے ایف-17ایک مشترکہ پاکچین منصوبہ ہے،اس لیے ہربرآمدی معاہدے میں چین کی شمولیت لازمی ہوگی۔چین تکنیکی منظوری،سپلائی چین اورپاکستان ٹیکنالوجی کنٹرول میں کلیدی کردارادا کرے گا۔یہ سوال فطری اوربجاہے کہ آیاپاکستان بڑے پیمانے پریہ طیارے بروقت تیارکرسکتاہے یانہیں ۔ مگرایسے سوالات دفاعی ریاستوں میں کھلے بازارمیں زیرِبحث نہیں لائے جاتے۔پالیسی سطح پریہ تسلیم کیاجاتاہے کہ بڑے پیمانے کے آرڈرز کیلئیپیداواری صلاحیت ایک حساس معاملہ ہے۔تاہم یہ ایک تدریجی اورقابلِ توسیع نظام ہے جسے ضرورت کے مطابق بڑھایاجاسکتاہے۔مگردفاعی صنعت میں پیداواری صلاحیت محض فیکٹریوں سے نہیں،ریاستی عزم،منصوبہ بندی اوروقت سے مشروط ہوتی ہے۔
وزیرِدفاعی پیداوارکا جواب نہایت معنی خیزتھا:یہ قومی دفاع کاسوال ہے اورقومی راز،رازہی رہنے چاہییں۔انہوں نے مثال دے کر واضح کیاکہ جدیددفاعی نظام وقت، محنت اور تدریج مانگتاہییہ جدیددفاعی نظام کسی ایک دن کی تخلیق نہیں۔ پیداواری اہلیت،سپلائی چین اورڈیلیوری ٹائم لائنزسے متعلق تفصیلات قومی سلامتی کے دائرے میں آتی ہیں۔ان معلومات کاعوامی سطح پرانکشاف پالیسی کے منافی ہوگا۔یہ بیان دراصل صنعتی حقیقت اورریاستی احتیاط کاعکاس ہے۔
(جاری ہے)
۔