67 فیصد پاکستانیوں نے کبھی بدعنوانی نہیں دیکھی::ایف پی سی سی آئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایف پی سی سی آئی نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر کروائے گئے سروے کے نتائج جاری کردیے۔
ملک گیر سروے میں عوام کی اکثریت یعنی 67 فیصد نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق کر دی، سروے کے نتائج کے مطابق مختلف انواع کی بدعنوانی کے بارے میں "عوامی تاثر" اور "ذاتی تجربے یا ذاتی مشاہدے" میں واضح فرق سامنے آ گیا۔
67 فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں کسی بھی قسم کی بد عنوانی کا تجربہ نہیں ہوا۔ 73 فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی۔ 76 فیصد رائے دہندگان کا اقرباء￿  پروری سے کوئی واسطہ نہ پڑنے کا انکشاف کیا۔
68 فیصد رائے دہندگان کے "تاثر" کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے تاہم صرف 27 فیصد رائے داہندگان نے کہا  انہیں ذاتی طور پر ایسی صورتحال کا سامنا ہوا جہاں ان سے رشوت مانگی گئی۔ 
56 فیصد رائے دہندگان کے تاثر کے مطابق سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے لیکن صرف 24 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورتحال بھگتی ہے جہاں اقربا پروری نے میرٹ کی خلاف ورزی کی۔
59 فیصد رائے  دہندگان کے مطابق سرکاری اداروں یا عہدہ داروں میں غیر قانونی ذرائع سے دولت بنانے کا رجحان موجود ہے تاہم صرف 5 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کسی سرکاری ملازم کو غیر قانونی طریقے سے دولت بناتے ہوئے خود دیکھا ہے۔