تھانہ صدر جڑانوالہ کے علاقے 233 گ ب میں ٹک ٹاک بناتی دلہن فاطمہ کی گولی لگنے سے موت کا معمہ حل ہوگیا۔
سی پی او کامران عادل کی ہدایت پر کی گئی فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو گولی آٹھ سالہ بھانجے ارحم کے ہاتھوں لگی۔
واقعے کی تفصیلات
مقتولہ فاطمہ اپنی شادی کے دو دن بعد (30 نومبر کو) رخصت ہوکر سسرال آئی تھی۔2 دسمبر کو ٹک ٹاک ویڈیو بناتے وقت آٹھ سالہ ارحم، جو مقتولہ کی بڑی بہن کا بیٹا ہے، نے اتفاقیہ گولی چلا دی جس سے فاطمہ جاں بحق ہوگئی۔فاطمہ اور اس کی بڑی بہن کی شادی ایک ہی گھر میں ہوئی تھی۔
پولیس کارروائی
مقتولہ کے والد عباس نے ابتدا میں نواسے کو بچانے کے لیے یہ بیان دیا کہ گولی ٹک ٹاک بنانے کے دوران لگی۔تاہم، فرانزک رپورٹ نے حقیقت واضح کر دی۔سکیورٹی کانسٹیبل شاہد علی کی مدعیت میں بچے ارحم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
موجودہ صورتحال
سی پی او کامران عادل کے مطابق کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔ اس واقعے نے ٹک ٹاک کے دوران غیر محتاط رویے کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔