لاہور میں سائن بورڈ گرنے سے شہری جا ں بحق، اڑھائی گھنٹے میں 89 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ
بادامی باغ عثمان چوک میں دیوار گرنے سے 4افراد زخمی آج سے مون سون کیچھٹے سپیل کی پیشگوئی
لاہور،اسلام آباد( کرائم رپورٹر)لاہور میں تیز ہواکیساتھ موسلادھار بارش ، نشیبی علاقے زیر آب،اڑھائی گھنٹوں میں 89 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ، سائن بورڈ گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دیوار گرنے سے 4افراد زخمی ہو گئے ، بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ،کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہی۔ محکمہ موسمیات نے آج 4اگست سے 7اگست تک مون سون کے چھٹے سپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال سنگین اور فلش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ روز تیز ہوائوں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق اڑھائی گھنٹے کے دورانیہ میں اوسطاً40.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، شہر میں سب سے زیادہ بارش پانی والا تالاب میں 89 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔جیل روڈ پر 45، ایئرپورٹ 89، گلبرگ 49 ،لکشمی چوک 72، اپر مال 29، مغلپورہ 30 اور تاج پورہ میں 47 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، کئی اہم شاہراہوں پر بھی بارشی پانی کھڑا ہو گیا جس سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہوتی رہیں۔ چائنہ سکیم کے علاقہ سی بلاک میں سائن بورڈ گر نے سے ایک نامعلوم شخص دم توڑ گیا، آخری اطلاعات تک متوفی کی شناخت نہ ہو سکی۔دریں اثناء بادامی باغ عثمان چوک میں گھر کی چھت گرنے سے 4افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے،ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا، دوسری جانب راوی روڈ سبزی منڈی پولیس چوکی کی دیوار بھی گر گئی،آندھی کی شدت سے ایک درخت جڑ سے اکھڑ کر دیوار پر گراتھا جس سے دیوار بھی گر گئی ، چوکی انچارج اور دیگر عملہ محفوظ رہا ۔علاوہ ازیں ملک میں بارشوں اور سیلاب سے 24 گھنٹوں میں 4 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل بارے الرٹ جاری کرتے کہا ہے کہ آج 4 سے 7 اگست کے دوران لا ہور ،نارووال، ساہیوال، جھنگ ، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، مری ، جہلم، منڈی بہائوالدین ، گوجرانوالہ، حافظ آبادر، شیخوپورہ ، فیصل آباد اور اوکاڑہ میں بارش متوقع ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے صوبہ بھر کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ شدید بارشوں سے لاہور ، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ جبکہ بڑے دریائوں سے ملحقہ ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔ ادھر دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر بیراج پر بدستور نچلے درجے کے سیلاب برقرار ہیں، تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے دریا کنارے کچے کی مزید دو بستیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں،سیلاب متاثرین کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی جاری ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن لاہور کے مطابق باقی دریا اپنے اپنے ہیڈ ورکس پر معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔مزید برآں حافظ آباد کے بعد مختلف دیہاتوں میں حالیہ بارش کے بعد پانی کی نکاسی نہ ہو سکی جس سے وبائی امراض پھیلنی لگی ہیں۔علاوہ ازیں گلگت بلتستان میں شاہراہ بابوسر سے لاپتا سیاحوں کی تلاش تیرہویں روز بھی جاری رہی ، نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کا خاندان اب تک لاپتا ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک بھر میں 26 جون سے اب تک مون سون کے دوران مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 299اورزخمیوں کی تعداد715 ہو چکی ہے، اس دوران کل 1676 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 562 مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔