وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احسن اقبال نے حالیہ بیان میں عالمی معاشی اور توانائی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت خاص طور پر تیل کی درآمد سے بہت متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ ڈیزل ہمارے امپورٹ شدہ انرجی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ عالمی منڈیوں میں جاری بحران کی وجہ سے تیل کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں تیل کی درآمدات پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک، عالمی سطح پر معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر، آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں میں بحران کا ماحول پیدا کیا ہے، جس سے تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ فیول سبسڈی فراہم کر سکے، کیونکہ درآمد شدہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ملکی بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسی تناظر میں، ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ کا 100 ارب روپیہ کفایت شعاری مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ مالی بحران سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ نے صرف ہمارے خطے کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، اور عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، انہوں نے معاشی استحکام اور کفایت شعاری کی اپیل کی ہے تاکہ ملک کو موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔