سموگ اور فضائی آلودگی کے مضر اثرات شدت اختیار کرنے لگے ہیں، جس کے باعث دمہ اور سانس کی مختلف بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سموگ کے اثرات حاملہ خواتین کی صحت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ قبل از وقت پیدائش کے خطرات سے متعلق بھی خدشات سامنے آ رہے ہیں۔سموگ کے موسم میں ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جس سے طبی مراکز پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ایسوسی ایٹ پروفیسر پلمونالوجی سروسز ہسپتال ڈاکٹر محمد حسین کا کہنا ہے کہ سموگ اور فضائی آلودگی سانس کی بیماریوں اور دمے میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق آلودہ فضا کے مضر اثرات سے حاملہ خواتین بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ قبل از وقت پیدائش کا خطرہ بھی ایک اہم طبی تشویش ہے۔دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات علی اعجاز نے کہا ہے کہ سموگ کے اثرات انتہائی شدت سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ فضائی آلودگی کے باعث حد نگاہ کم ہونے سے پرندوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے کار پولنگ کو فروغ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے سموگ کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔