جسٹس ایاز شوکت نے وکیل کو مخاطب کرتے حکم دیا، وکیل صاحب یہ عینک اتار دیں
روسٹرم پر کھڑے وکیل نے فوری طور پر کالی عینک اتار دی، نظم و ضبط برقرار رکھنے کی سخت ہدایت
اسلام آباد(آئی این پی) ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران موبائل فون کے بعد روسٹرم پر کالے شیشے والی عینک پہننے سے وکیل کو روک دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ایک دلچسپ اور انوکھا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں موبائل فون کے بعد روسٹرم پر کالے شیشے والی عینک پہننے سے بھی وکیل کو روک دیا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے روسٹرم پر موجود وکیل کو کالی عینک میں دیکھ کر فوری طور پر عینک اتارنے کی ہدایت کی۔جسٹس ایاز شوکت نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا، "وکیل صاحب! یہ عینک اتار دیں!، جس پر روسٹرم پر کھڑے وکیل نے فوری طور پر اپنی کالی عینک اتار دی۔واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس ایاز شوکت نے سماعت کے دوران روسٹرم پر موبائل فون کا استعمال کرنے سے وکیل کو روک دیا تھا اور عدالت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی سخت ہدایت کی تھی۔