ترک صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ حماس جنگ بندی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور فلسطین کی تعمیر نو کے لیے مسلم ممالک کو ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
انہوں نے استنبول میں سالانہ COMCEC اقتصادی تعاون سربراہی اجلاس کے دوران او آئی سی رکن ممالک کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی صورتحال انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، اور ہمیں غزہ کے عوام تک مزید انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسرائیلی حکام امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔اردوان نے زور دیا کہ عرب لیگ اور او آئی سی کے تیار کردہ تعمیر نو کے منصوبے پر فوری عملدرآمد بہت ضروری ہے تاکہ فلسطین کی حالت بہتر بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ترکیہ آج سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر مشاورتی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ اجلاس استنبول کے ایک ہوٹل میں پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوگا، اور چند گھنٹوں بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا بھی انعقاد متوقع ہے، جس میں مستقبل کے اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔