اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے امریکہ سے اجازت نہیں لیتا بلکہ صرف انہیں آگاہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اب بھی حماس کے ٹھکانے موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں رفح اور خان یونس کے علاقوں میں حماس کے مراکز کو جلد ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج پر حملہ کیا گیا تو اس کا جوابی ردعمل سخت ہوگا، جس میں حملہ آوروں اور ان کی تنظیموں دونوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی کا انفرادی طور پر نگران وہ خود ہیں اور کسی بیرونی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوج کے آپریشنز کے بارے میں صرف امریکہ کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں، کوئی اجازت نہیں لی جاتی۔
دوسری جانب، حماس نے اس بیان کے ردعمل میں الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کروانے میں ناکام رہا ہے اور جنگ روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہ بیان ایک اہم اور حساس مرحلے پر سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیلی حکومت اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔