ایران پر اسرائیل کے حملے سے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا شہبازشریف

جنگ ا یسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیںجاری تھیں جن میں عمان نے فعال کردار ادا کیا‘ ان حملوں نے ن خطے میں بات چیت کو فروغ دینے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو  نقصان پہنچایا
مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی اقدامات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے جگہ پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے‘عمان کی متوازن سفارت کاری خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لئے اہم  ہے:وزیراعظم کی عمان کے سلطان سے ٹیلیفونک گفتگو 
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے  ایران پر اسرائیل کے حملے سے پورے خطے کا امن و سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے،یہ کشیدگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیںجاری تھیں جن میں عمان نے فعال کردار ادا کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کوعمان کے سلطان عزت مآب سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایران پر اسرائیل کے حملے کے تناظر میں بگڑتی ہوئی موجودہ علاقائی صورتحال، جس کی وجہ سے پورے خطے کا امن و سلامتی خطرے میں پڑ گئی، پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیںجاری تھیں جن میں عمان نے فعال کردار ادا کیا۔ ان حملوں نے نہ صرف اہم سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارا بلکہ خطے میں بات چیت کو فروغ دینے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی اقدامات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے جگہ پیدا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ عمان کے ثالثی کردار کے لیے اپنی گہری تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مسقط کی جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے اور اعتماد سازی کی تعمیری کوششوں پر عزت مآب سلطان ہیثم بن طارق کی تعریف کی۔ انہوں نے تسلیم کیا  عمان کی متوازن سفارت کاری خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لئے اہم  ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے اور امن کی بحالی اور دیرپا علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔