لاس ویگاس میں ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے باہر ٹیسلا سائبر ٹرک میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ٹرک میں آتشبازی کا سامان موجود تھا، جس کے باعث دھماکہ ہوا۔ ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکے کا سائبر ٹرک سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کی تمام ٹیلی میٹری معلومات مثبت تھیں، اور دھماکہ آتشبازی یا بم کی وجہ سے ہوا۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
حکام کے مطابق، ٹرک کولوراڈو سے کرائے پر لیا گیا تھا، اور ڈرائیور کی شناخت میتھیو ایلن لیولزبرگر کے نام سے ہوئی ہے، جو 2006 سے امریکی فوج میں ملازم تھے اور افغانستان سمیت مختلف ممالک میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ واقعے کے وقت وہ ڈیوٹی سے منظور شدہ چھٹی پر تھے۔یہ واقعہ نیو اورلینز میں ہونے والے ٹرک حملے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدر جو بائیڈن نے دونوں واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔