پنجاب میں صرف ساڑھے8ہزار سکولز میں لاکھوں طلبہ کا کمپیوٹر لیبز،جدیدتعلیم کاخواب ادھورا
لاہور(خصوصی رپورٹ)فائیو جی کے دور میں بھی پنجاب کے ہزاروں سرکاری سکول بنیادی سہولت انٹرنیٹ سے محروم ، جدیدتعلیم اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے دعوئوں کے سرکاری سکولوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی کھل کر سامنے آ گئی۔ 17ہزار سے زائد سکولوں میں آج بھی انٹرنیٹ کی سہولت نہیں۔دستاویزات کے مطابق صوبیکے 21 ہزار سرکاری سکولوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ہیتاہم یہ تعداد مجموعی کے مقابلے میں ناکافی ہونے پر لاکھوں طلبہ جدیدتعلیم سے محروم ہیں۔ صرف ساڑھے8ہزار سکولوں میں کمپیوٹر لیبزاور 11ہزار میں لائبریریز قائم ہیں۔ صرف تیرہ سو سکولوں میں فزکس، 1348 میں کیمسٹری جبکہ1018سکولوں میں بائیولوجی لیبز موجود ہیں۔ 3 ہزار سے زائد سکولوں میں ملٹی میڈیا سہولت جبکہ صرف2181سکولوں میں سمارٹ بورڈ نصب ہیں۔4ہزارسکولوں میں کمبائنڈ لیبز کی سہولت ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ بھی صوبے کے تمام طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔اگر انٹرنیٹ اور جدید تعلیمی سہولتیں فوری فراہم نہ کی گئیں تو ڈیجیٹل ایجوکیشن کا خواب دعو ئوں تک ہی محدود رہ جائے گا۔