پاکستان میں ترقی کا راز

طلعت بٹ
ہم نے 75 سال میں بہت یونیورسٹیاں بنا لیں۔ بہت ڈگریاں بانٹ دیں مگر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کا نہیں، مواقعوں کی کمی ہے۔ ہمارے پاس 12 کروڑ سے زائد نوجوان ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بھی ہیں اور سب سے بڑی ذمہ داری بھی۔دنیا بدل چکی ہے۔ اب ترقی لیپ ٹاپ کی سکرین سے ہوتی ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور فلپائن نے آئی ٹی اور فری لانسنگ سے اربوں ڈالر کمائے۔ ہمارے نوجوان بھی یہ کر سکتے ہیں۔ ڈویلپر، اور ایک کانٹینٹ رائٹر گھر بیٹھ کر دنیا بھر کے کلائنٹ سے ڈالر کما سکتا ہے۔ حکومت کو صرف 3 کام کرنے ہیں سستا اور تیز انٹرنیٹ، آسان بینکنگ اور پیمنٹ گیٹ وے، اور فری لانسنگ کی تربیت، اگر ہم 10 لاکھ نوجوانوں کو فری لانسر بنا دیں تو یہ 5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہے۔ ہمارا کسان آج بھی پرانے طریقے سے کام کر رہا ہے۔ اسے موبائل پر موسم، منڈی کے ریٹ اور جدید بیج کی معلومات ملیں۔ ڈرون اور سولر ٹیکنالوجی آ جائے تو پیداوار دگنی ہو جائے گی۔ جس دن ہمارا نوجوان خوشحال ہوا، اسی دن پاکستان ترقی کرے گا۔ ہمارا نوجوان نوکری کو ہی کیوں اہمیت دیتا ہے؟ ترقی کا راز فیکٹریوں میں نہیں، فیکٹری چلانے والے ہاتھوں میں ہے۔ اور وہ ہاتھ تب بنیں گے جب ہم "ڈگری" کے بخار سے نکل کر "ہنر" کی دوا کی طرف جائیں گے۔ ہر سال 20 لاکھ نوجوان یونیورسٹیوں سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نکلتے ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد کو نوکری نہیں ملتی۔ کیونکہ ہم نے تعلیم کو روزگار سے جوڑ دیا ہے۔ جرمنی، جاپان، کوریا یہ سب نوجوان طبقہ کو ٹیکنیکل ایجوکیشن سے آگے لے کر گئے ہیں۔ وہاں پلمبر، الیکٹریشن، سی این سی آپریٹر کی عزت پروفیسر کے برابر ہی ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمیں بھی ہر ضلع میں "ٹیکنیکل کالجز" بنانے چاہیئیں۔ جہاں 6 ماہ کا کورس کر کے نوجوان 1 لاکھ ماہانہ کمانے کے قابل ہو سکے۔میٹرک کے بعد ہر بچے کو "ہنر ٹریک" یعنی ڈیجیٹل ہنر، ویب ڈویلپمنٹ، AI ڈیٹا انٹری، ویڈیو ایڈیٹینگ، الیکٹرونکس انڈسٹریل ہنر، ویلڈنگ، الیکٹرک ہنر، آٹو مکینک،اور جدید کاشتکاری، فوڈ پروسیسنگ، ڈیری اور دوسرے سارے ٹیکنیکل ہنر سیکھنے چاہیئیں ،استاد قوم کا معمار ہے۔ جب تک استاد کو 100000 تنخواہ اور عزت نہیں ملے گی، وہ بچے کا مستقبل کیسے بنائے گا؟ اب ترکی کی مثال لے لیجئے ترکی نے 2002 میں فیصلہ کیا کہ ہم "ہنر" پر زیادہ توجہ دیں گے۔ انہوں نے 300 سے زائد ووکیشنل سکول کھولے۔ آج ترکی کی چھوٹی صنعتیں یورپ کو ایکسپورٹ کر رہی ہیں۔ سب سے بڑی سرمایہ کاری "انسان" پر ہے۔ ایک ڈاکٹر اگر 100 مریض ٹھیک کرتا ہے۔تو  ایک استاد 100ڈاکٹرز بناتا ہے۔ اور ایک ہنر مند استاد 1000 ہنر مند نوجوان بناتا ہے۔ یہی ترقی کا زینہ ہے۔ قارئین کرام ملک قرضوں سے نہیں ہنر مند لوگوں کی ٹیم سے چلتے ہیں۔ ہمیں ہر بچے کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ اگر تمہارے پاس ڈگری نہیں لیکن ہنر ہے، تو تم کامیاب ہو۔ تم عزت دار ہو۔ تم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہو۔ جس دن ہمارا نوجوان ڈگری کے بجائے ہنر مانگنے لگے گا، اور ریاست اسے ہنر دینے لگی۔ تو اسی دن پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہو گا۔ پاکستان خوبصورتی میں دنیا کا نمبر 1 ہے بس پہچان کی دیر ہے جب دنیا کے بڑے بڑے ٹریول میگزین "سب سے خوبصورت ملک" کی لسٹ بناتے ہیں تو پاکستان ٹاپ 5 میں ضرور آتا ہے۔ ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش، صحرائے تھر، ساحل مکران، وادی ہنزہ، سوات، کلام، چترال نام لیتے لیتے سانس پھول جاتی ھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی نعمتیں ہونے کے باوجود ہماری سیاحت کتنا زرِمبادلہ کما رہی ہے؟ ہمارے پاس 4 موسم3 پہاڑی سلسلے2 سمندر اور 1 دلکش ثقافت ہے۔ لاہور، ملتان، بہاولپور، ٹیکسلا کی 5000 سال پرانی تہذیب مغل فن تعمیر، صوفی دربار، بادشاہی مسجد،  ہندو، سکھ، بدھ مت یاتریوں کے لیے یہ جنت سے کم نہیں۔ تھر کا صحرا، خضدار کے پہاڑ، گوادر کا نیلا سمندر دبئی میں ریت کے ٹیلے دیکھنے لوگ جاتے ہیں، ہمارے ہاں بھی پیرا گلائیڈنگ، جیپ سفاری، کیمپنگ نوجوانوں کا جنون ہے۔ لیکن سڑکیں ٹوٹی ہیں، وائی فائی نہیں، صاف پانی نہیں۔ غیر ملکی ٹورسٹ آرام مانگتا ہے۔ آن لائن ویزا سسٹم ہے لیکن پروسسنگ سست۔ ایئرپورٹ پر رویہ سخت۔ پہلا تاثر ہی آخری تاثر ہوتا ہے۔ ہم نے کبھی دنیا کو بتایا ہی نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے۔ ترکی، دبئی اربوں خرچ کر کے اشتہار دیتے ہیں۔ لہذا ایک ٹورسٹ 10 لوگوں کا رزق بنتا ہے ویزا آن ارائیول، 30 دن کا آسان ویزا۔ حکومت زمین دے، پرائیویٹ سیکٹر ہوٹل بنائے سکردو، چترال، زیارت میں ورلڈ کلاس ریزورٹ اس طرح پہلے ہم خود اپنے ملک کو ایکسپلور کریں تو اس سے معیشت کا پہیہ گھومے گا۔ 60% آبادی نوجوان ہے، یہی ٹور گائیڈ، ولاگر، فوٹوگرافر بنیں کیمرہ اور موبائل سے بھی ملک میں رہ کر کمایا جا سکتا ہے۔ جس طرح پاکستانی یوٹیوبرز نے دنیا کو دکھایا کہ ہمارے پہاڑی سلسلے کیسے ہیں۔ اب ضرورت ہے پروفیشنل ٹور آپریٹرز اور ٹورزم کلچرل فیسٹیولز کی سپورٹ، شندور پولو، جھل مگسی کا میلہ، اور بسنت یہ سب ایونٹ ٹورزم بزنس کیلئے مفید بن سکتے ہیں۔ تیل ختم ہو جائے گا، سونا ختم ہو جائے گا، لیکن خوبصورتی نہیں ختم ہوگی۔ اگر ہم نے سیاحت کو سنجیدہ لیں تو 5 سال میں 5 ملین ٹورسٹ اور 10 ارب ڈالر کما سکتے ہیں۔ ساتھ میں دنیا کا تاثر بھی بدلے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم "کرپٹ ملک" کا لیبل اتار کر "خوبصورت ملک" کا ٹیگ لگائیں۔ کیونکہ سیاحت صرف پیسہ نہیں لاتی، عزت بھی لاتی ہے۔ کوئی بھی ترقی یافتہ قوم بڑے بڑے منصوبوں سے ترقی کا سفر شروع نہیں کرتی۔ بلکہ ترقی یافتہ قوموں نے چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں کے سٹارٹ سے ترقی کی ہے۔ جاپان نے ایسا کیا، ترکی نے ایسا کیا، ویتنام نے ایسا کیا۔ پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ "بڑی فش" پکڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ اربوں ڈالر کا قرضہ، میگا پروجیکٹ، بڑی سرمایہ کاری۔ لیکن ہم اپنے کروڑوں "چھوٹے مچھلیوں" کو بھول جاتے ہیں۔ وہی چھوٹے مچھلیاں مل کر سمندر بناتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی 70 فیصد معیشت "چھوٹے اور درمیانے کاروبار" یعنی SMEs کے گرد گھومتی ہے۔ درزی، نان بائی، موبائل کی دکان، فیکٹری میں 10 لوگ، زرعی آلات بنانے والی ورکشاپ۔ یہی لوگ روزگار دیتے ہیں۔ یہی لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کو سہولیات دینے کے بجائے مشکلات دی جاتی ہیں۔ بجلی مہنگی، قرضہ مشکل، لائسنس کے لیے دفتروں کے چکر، اور اوپر سے بے یقینی۔ اگر ہم نے صرف ان چھوٹے کاروباروں کو آسان کر دیا تو پاکستان 5 سال میں کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔ دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار وہاں ہوتے ہیں جہاں کاروبار شروع کرنا آسان ہو۔ ہمیں ایک ون ونڈو سسٹم چاہیے۔ ایک نوجوان اپنی دکان یا فیکٹری کا نام آن لائن 24 گھنٹے میں رجسٹر کروا سکے۔ نہ رشوت، نہ وکیل، نہ مہینوں کی خواری۔ سنگاپور میں کمپنی 1 دن میں بنتی ہے۔ ہم 30 دن میں بھی بنا دیں تو بہت ہے۔ ہمارا نوجوان آئیڈیا رکھتا ہے، ہنر رکھتا ہے، لیکن پیسہ نہیں رکھتا۔ بینک اسے قرضہ نہیں دیتے کیونکہ "گارنٹی" مانگتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کاروبار کے لیے "مائیکرو فنانس" اور "بغیر ضمانت قرضہ" کا نظام بنائے۔ 5 لاکھ تک کا قرضہ، 3 فیصد سود پر ترکی نے ایسا ہی کیا تھا۔ آج ان کی چھوٹی صنعتیں یورپ کو مال بیچ رہی ہیں۔ ہمارے سیالکوٹ کے سرجیکل آلات اور کھیلوں کا سامان، کراچی اور فیصل آباد کی ٹیکسٹائل مصنوعات ملتان کے مٹی کے برتن یہ سب دنیا میں بک سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں "برانڈنگ" اور "معیار" پر کام کرنا ہو گا۔ حکومت ہر شہر میں ایک "ایکسپورٹ ہب" بنائے جہاں چھوٹے کارخانہ دار کو پیکنگ، مارکیٹنگ اور آن لائن سیل کی ٹریننگ ملے۔ ایمازون اور علی بابا پر "Pakistani SME کا الگ سیکشن ہو۔ کوئی کاروبار مہنگی بجلی پر نہیں چل سکتا۔ حکومت سولر امپورٹرز کو سہولیات دے۔ چھوٹے کارخانوں کو سولر پر سبسڈی دے۔ دوسرا انٹرنیٹ سے آج ہر دکاندار آن لائن آرڈر لے سکتا ہے۔ ہر کاریگر اپنا کام انسٹاگرام پر بیچ بنا سکتا ہے۔ ریاست کا کام صرف انٹرنیٹ سستا اور تیز کرنا ہے۔اگر  روم، لندن، دبئی میں بیٹھے پاکستانیوں کے پاس 2 چیزیں ہیں پیسہ اور تجربہ تو کیا وہ پاکستان میں 10 کروڑ کی فیکٹری نہیں لگا سکتا؟ کیا  وہ 10 لاکھ دے کر اپنے گاؤں میں 10 نوجوانوں کو کاروبار نہیں کروا سکتا؟ جی یہی وہ عوامل ہیں جن سے دنیا نے ترقی کی۔لہذا سفارتخانے اگر "چھوٹے سرمایہ کاروں" کا پل بن جائیں تو ہر سال اربوں ڈالر پاکستان آ سکتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری بڑی کمپنیوں سے زیادہ محفوظ اور پائیدار ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش نے گارمنٹس کی چھوٹی فیکٹریوں پر کام کیا۔ آج وہ دنیا کا دوسرا بڑا گارمنٹس ایکسپورٹر ملک ہے۔ ویتنام نے چھوٹے الیکٹرانکس کارخانوں کو سپورٹ کیا۔ آج سام سنگ وہاں فون بناتا ہے۔ انہوں نے کوئی جادو نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اپنے چھوٹے لوگوں پر بھروسہ کیا۔ ہماری سب سے بڑی رکاوٹ قانون نہیں، ہماری سوچ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ترقی صرف اسلام آباد اور لاہور سے ہوگی۔ نہیں ! یہ ترقی اصل میں  وزیرآباد کے کٹلری کے کارخانے کو سہولیات دینے سے ہوگی۔ سیالکوٹ کی فٹبال انڈسٹری سے ہوگی۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ہوگی۔ سکھر کی کھجور سے ہو گی۔ یقین مانیں کہ پہمیں کسی بڑے آدمی کے انتظار کے بجائے چھوٹے آدمی کو عزت دینی ہو گی۔ قومیں نعروں سے نہیں محنت، ذہانت، اور معاشی اصطلاحات سے بنتی ہیں جب ہنر مند افراد کی سوچ اور ذہانت کو صحیح طور پر مکمل اسکی زندگی کے حوالے سے فطری تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ قوم ترقی نہ کر سکے۔ پاکستان کے پاس وسائل ہیں، زمین ہے، نوجوان ہیں۔ بس ایک چیز کی کمی ہے۔ ریاست اگر 25 کروڑ لوگوں کے لیے کاروبار آسان کر دے، قانون کی حکمرانی دے دے، اور میرٹ پر فیصلے کرنے لگ جائے تو پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔