علی ظفر کی خاموشی ٹوٹ گئی، عدالتی فیصلے پر بیان

علی ظفر کی خاموشی ٹوٹ گئی، عدالتی فیصلے پر بیان

عدالت نے  گلوکار اور اداکار علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ مقدمہ پاکستان کے نمایاں می ٹو کیسز میں شمار ہوتا رہا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔یہ قانونی تنازع 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ اس کے بعد علی ظفر نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ تقریباً 8 سال تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مدعا علیہہ اپنے الزامات کے حق میں خاطر خواہ شواہد پیش نہ کر سکیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ میشا شفیع متعدد سماعتوں میں پیش نہیں ہوئیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان پیش کیے، جس کے بعد فیصلہ ان کے حق میں آیا۔

فیصلے کے دو روز بعد علی ظفر نے انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے دل میں عاجزی، انکساری اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کا ہونا اہم تھا اور وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے، اور یہ باب اب ان کی زندگی میں بند ہو چکا ہے۔ علی ظفر نے دعا کی کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔