راولپنڈی: فیملی پر آوازیں کسنے پر پابندی لگانے والے نوجوان کو گولی مارنے کا واقعہ، تین ملزمان گرفتار
واقعے کی تفصیل:
تھانہ بنی، راولپنڈی میں عید کے دوسرے دن ایک تشدد آمیز واقعہ پیش آیا، جس میں فیملی پر آوازیں کسنے (ہوٹنگ) سے منع کرنے پر ایک نوجوان کو گولی مار دی گئی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق، جب وہ گھر کے قریب پہنچے تو ایک گاڑی میں موجود تین نوجوانوں (اسامہ، شرجیل، واصف) نے ان کی فیملی کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔
راجا وحید (متاثرہ فرد کے والد) کے بیان کے مطابق، انہوں نے اور ان کے بیٹے فہد نے لڑکوں کو ایسا کرنے سے روکا، لیکن ملزمان لڑائی پر اتر آئے۔
دو لڑکوں نے فہد کو بازووں سے پکڑ لیا، جبکہ تیسرے نے کہا: "اسے گولی مار دو!"
اس کے بعد ایک ملزم نے پسٹل نکال کر فہد کے پیٹ کے بائیں جانب گولی مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑا۔ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس کی کارروائی:
واقعے کی رپورٹ درج کرنے کے بعد سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے فوری نوٹس لے کر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔
پولیس نے تینوں ملزمان (اسامہ، شرجیل، واصف) کو گرفتار کر لیا۔
ایس پی راول نے کہا کہ ٹھوس شواہد کے ساتھ ملزمان کو چالان کرکے سخت سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور قانون شکنی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، پولیس کی فوری کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ مجرمین کو قانون کے شکنجے میں لینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب عدالتی عمل کے بعد ملزمان کو قرار واقعی سزا ملنے کی توقع ہے۔