اسرائیل امریکی انفلوئنسرز کو خرید کر سوشل میڈیا پر حمایت بڑھا رہا ہے

اسرائیل امریکی انفلوئنسرز کو خرید کر سوشل میڈیا پر حمایت بڑھا رہا ہے

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اپنے اقدامات کے حوالے سے بین الاقوامی مخالفت اور دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

 غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت نے امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو رقم دے کر اپنے حق میں مواد شیئر کروانے کی مہم شروع کی ہے۔

ادائیگی کی تفصیلات:

ہر پوسٹ کے عوض انفلوئنسرز کو تقریباً 7 ہزار ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں۔ابتدائی بجٹ 9 لاکھ ڈالر ہے، جس کا تقریباً نصف امریکی انفلوئنسرز کی بھرتی اور تربیت پر خرچ ہو رہا ہے۔
فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA):

یہ معلومات اسی قانون کے تحت سامنے آئی ہیں، جو امریکہ میں غیر ملکی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کی شفافیت کے لیے نافذ ہے۔دستاویزات میں بتایا گیا کہ فنڈنگ اسرائیل کی حکومت کے ذریعے ہیواس میڈیا گروپ اور برجز پارٹنرز LLC کے تحت کی جا رہی ہے۔
تکنیکی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال:

اسرائیل کے سابق ڈیجیٹل کیمپین اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکل کو ماہانہ 15 لاکھ ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں۔ان انفلوئنسرز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں پرو-اسرائیل پیغامات تخلیق کیے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے نیویارک میں امریکی یہودی انفلوئنسرز سے خطاب میں کہا کہ آج کی سب سے بڑی جنگ سوشل میڈیا پر ہے اور ہمارا اصل ہتھیار انفلوئنسرز ہیں۔یہ حکمت عملی اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ کم کرنے اور اپنے موقف کو عالمی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔اس منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اب سوشل میڈیا کو ایک اہم میدان کے طور پر دیکھ رہا ہے، جہاں انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی رائے پر اثر ڈالنا مقصد ہے۔