آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی خطرناک ایسے عالمی اثرات مرتب ہوں گے جو دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے
تہران(آئی این پی)ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے مشرق وسطی میں واقع مصنوعی ذہانت (اے آئی اور ڈیٹا مراکز کو اپنے ممکنہ جوابی اہداف کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، اور امریکا یا اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں یہ تنازع ایک طویل اور غیر متوقع جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقائی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے توانائی کا بحران پیدا ہوگا اور آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی خطرناک ایسے عالمی اثرات مرتب ہوں گے جو دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ ایران اگلی جنگ کے آغاز اور اس کے تمام مراحل کے دوران روایتی حملوں سے ہٹ کر سرپرائز دینے والی حکمتِ عملی کو ترجیح دے گا۔یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل اکتوبر کے وسط میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو خطے میں موجود ڈیٹا سینٹرز، زیرِ سمندر کیبلز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات ایرانی نشانہ بن سکتی ہیں