کسی کیساتھ ذاتی دشمنی نہیں، آصف زرداری بلائیں گے تو ملاقات کرلوں گا،سابق وفاقی وزیر
سلام آباد (آئی این پی )سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا پیپلزپارٹی میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں بل کہ سیاست کا ہی ارادہ نہیں ہے ، ذاتی طور پر آصف زرداری ملاقات کیلئے بلائیں گے تو ملاقات کرلوں گا، کسی کیساتھ ذاتی دشمنی نہیں، سیاسی طور پر میرے شدید اختلافات ہیں۔ایک انٹرویو میں اسد عمر نے کہا کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، قاضی فائزعیسٰی کے فیصلوں سے انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آیا، ایک وقت آئیگا کہ قاضی فائز عیسٰی کے انتخابی نشان کے فیصلے کو یاد کیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ میرا خیال ہے قاضی فائز عیسٰی کی گاڑی پر حملہ درست نہیں تھا، احتجاج کا طریقہ کچھ اور بھی ہوسکتا تھا، مخالفت جس حد تک بھی ہو قانون کے دائرے سے نہیں نکلنا چاہیے۔اسد عمر نے کہا کہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں غیرملکی کردار ہوتا ہے، امریکا، چین ، یواے ای اور سعودی عرب کا اثرورسوخ ہے، بانی پی ٹی آئی اور ٹرمپ کے اچھے تعلقات تھے، ٹرمپ جب کامیاب ہوئے تھے تو پاکستان سے متعلق پالیسی کچھ تبدیل ہوئی تھی۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت جاتے ہیں تو شاید تھوڑی سی تبدیلی آئے، لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ ٹرمپ عمران خان کیلئے مداخلت کرے گا تو یہ کہنا مشکل ہے۔پارلیمان کا حصہ اور ایوان میں موجود جماعت نظام کو درہم برہم نہیں کرسکتی، احتجاج کا راستہ نظام کے اندر ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سے بات چیت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی احتجاج کیلئے 4لاکھ لوگ لے کر 252د ن بھی بیٹھ جائے حکومت نہیں گرے گی،نظام کے اندر رہ کر احتجاج کا راستہ اپنا ناچاہیے۔