سنگین جرائم ،10 لاکھ ملزموں کے ڈی این اے لینے کا فیصلہ

لاہور (کرائم رپورٹر )پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو جیلوں میں سنگین کیسز میں آنے والیملزموں کیحوالے سے اہم ٹاسک دے دیا گیا،جرائم کی بروقت نشاندہی کے لئے سنگین جرائم میں ملوث10لاکھ ملزموں کے ڈی این اے سیمپلز اکٹھے کئے جائیں گے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق ملزموں کا ڈی این اے ڈیٹا بیس پولیس کو تفتیش میں جبکہ عدالتوں کو فیصلوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ پنجاب کی تمام جیلوں میں سنگین جرائم میں آنے والیملزموں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا،باربار جیل آنے والوں کو خصوصی طور پر فوکس کیا جائے گا۔قبل ازیں پی ایف ایس اے کے پاس 60 ہزار ملزموں کے ڈی این اے سیمپلز موجود ہیں۔ کئی اہم کیسز حل کئے جاچکے ہیں۔ڈیٹا بیس کے قیام کے لئے سیکرٹری داخلہ نورالامین مینگل نے5افسروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ۔ داخلہ حکام کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر محمد امجد ورکنگ گروپ کے سربراہ مقررکئیگئے ،سربراہ بائیو میڈیکل سائنسز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نگہت یاسمین ، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ولید بیگ، پروفیسر ڈاکٹر معاذالرحمن اور ڈی آئی جی اطہر وحید ممبران میں شامل ہیں۔یہ ورکنگ گروپ رواں ماہ ڈیٹا بیس کے قیام و ورکنگ کیلئے سفارشات پیش کریگا