چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایک چینی شہری ہلاک ہوگیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد چین نے فوری طور پر اپنی سکیورٹی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ چینی حکام نے تمام چینی شہریوں کو ایران سے فوری طور پر نکلنے کی ہدایت دی ہے، اور اب تک تین ہزار سے زائد شہریوں کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خطرات کے پیش نظر ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ چین نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف امریکی حملے کی سخت مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔ چین کا موقف ہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے، اور خطے کے ممالک کی سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
مزید برآں، چین نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور اس کے مطابق، اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ چین اس خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے، ساتھ ہی اس نے اس صورتحال میں سفارتی اور قانونی موقف بھی واضح کیا ہے۔