وفاقی بجٹ میں ممکنہ تاخیر کی بڑی وجہ سامنے آگئی ہے، جہاں حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی مکمل کرنا چاہتی ہے، تاہم اتحادی جماعتوں کے تحفظات اس عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ آئندہ مالی سال سے متعلق بعض اہم ترامیم اور قانون سازی بجٹ پیش ہونے سے پہلے مکمل کر لی جائے، کیونکہ ان تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات وفاقی بجٹ پر پڑیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس مجوزہ قانون سازی کی حامی نہیں، جبکہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شگرویلی میں اپنے خطاب کے دوران اس حوالے سے واضح پیغام بھی دیا ہے۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق اگر بجٹ اجلاس سے پہلے مطلوبہ ترامیم منظور نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں متوقع تبدیلیاں نافذ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لیے حکومت نے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کے لیے اہم شخصیات کو متحرک کر دیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں، اور انہیں راضی کیے بغیر بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان ممکن نہیں سمجھا جا رہا۔دوسری جانب حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بھی بجٹ منظوری کے لیے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ پارٹی رہنما فاروق ستار نے گزشتہ روز کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط قرار دیا تھا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور مجوزہ قانون سازی پر اختلافات کے باعث وفاقی بجٹ کی تاریخ میں رد و بدل کا امکان بڑھ گیا ہے۔