اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور تنازع کے دوران ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور موجودہ ایرانی نظام اب پہلے جیسی پوزیشن میں واپس نہیں جا سکے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران پہلے ہی “بہت بھاری قیمت” ادا کر چکا ہے اور ان کے بقول ایران میں قائم موجودہ نظام کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ایرانی حکومت دوبارہ پہلے جیسی مضبوط حالت میں نہیں آ سکے گی اور اس کا زوال ناگزیر ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ تنازع کے باوجود ایران کی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مسلح افواج ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کی دفاعی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔