ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی منصوبے پر ایران کے اندرونی سطح پر مشاورت جاری ہے اور اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس سے اسے ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل ہوں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق ممکنہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور خطے میں سفارتی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔