بارش،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ

 راوی ،چناب ، ستلج میں بدھ تک اونچے درجے کا سیلاب ، جھنگ ، شجاع آباد ، ملتان کے دیہات زیر آب ،نارووال ،ننکانہ میں بند ٹوٹ گئے 
لاہور میں چھتیں گرنے سے 5جاں بحق،بیشتر علاقے زیر آب،170فیڈر ٹرپ ،ملتان میں رین ایمرجنسی، پشاور کے نالوں میں طغیانی، کشتیوں پر شہری ریسکیو
 ،سیالکوٹ میں مزید 2لاشیں بر آمد، بلوکی، گنڈاسنگھ پر پانی انتہائی بلند، قصور کو بچانے کیلئے بند توڑ دیا، ملتان،مظفرگڑھ شہر کی حفاظت کیلئے بھی شگاف ڈالنے کی تیاری
 گدو کے مقام پر سپرفلڈ اور 16لاکھ افراد متاثر ہونیکا خدشہ ،پنجاب میں سیلاب سے 30اموات ،15لاکھ سے زائد متاثر،4لاکھ 81ہزار ریسکیو کرلئے
لاہور،سیالکوٹ(کرائم رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک)دریائے راوی ، چناب ،ستلج میں بدھ تک اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا جبکہ نارووال میں نہر ایم آر لنک اور ننکانہ صاحب میں ہفت مدر کے قریب بند میں شگاف پڑ گیا، جھنگ ، شجاع آباد ، ملتان کے دیہات بھی زیر آب آگئے، سیلاب کے ساتھ مون سون کے نویں سپیل کی طوفانی بارش نے مزید تباہی پھیلادی،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی، لاہور میں چھتیں گرنے سے 5افراد جاں بحق ہوگئے، ملتان میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی،پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد منگل بدھ کی رات سیلاب سندھ پہنچے گا،16لاکھ افراد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے جبکہ متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔تین دریا ئوں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل پرونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نیپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے۔ قصور شہر بچانے کیلئے آر آر اے ون بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث 280 دیہات ڈوب چکے جبکہ مجموعی طور پر 15 لاکھ 16 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 2 لاکھ 48 ہزار افراد کے سائبان چھن گئے۔پنجاب میں سیلاب سے اموات 30 ہوگئی ہیں جبکہ درجنوں لاپتا ہیں۔لاہور میں 6 سے 7 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں موجود ہیں جنہیں کھانا پینا اور رہائشی ضرویات فراہم کی جا رہی ہیں۔بارش سے صوبائی دارالحکومت میں گھروں کی چھتیں گرنے سے پانچ افراد جاں بحق سمیت پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے ترجمان ریسکیو کے مطابق برکی میں بازار میں واقع گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک سمیت ایک افراد زخمی ہوگیا برکی مین بازار میں چھت کے ملبے میں دبے افراد کو نکال لیا گیا ملبے سے نکالے گے افراد میں ایک شخص زخمی جبکہ ایک پہلے سے مردہ حالت میں پایا گیاحادثہ میں زخمی شخص کی شناخت اسامہ عمر 20, جبکہ حادثے میں جابحق شخص کی شناخت عبدالرزاق عمر 60 سال معلوم ہوئی حادثے میں زخمی شخص کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے لاہور جنرل ہسپتال شفٹ کر دیا گیا دوسرا واقعہ اولڈ نارکلی گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا تیسرا واقعہ مانا والا بیدیاں روڈ گھر کی چھت گرنے سے تین افراد جاں بحق سمیت چار افراد شدید زخمی ہوگئیپی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کے مطابق شمالی مدھیہ پردیش پر موجود مون سون کے دبا ئو کے زیرِ اثر 2 سے 3 ستمبر کے دوران دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب برقرار رہے گا جبکہ دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر آئندہ 24 گھنٹوں میں غیرمعمولی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ادھر سیلاب کی صورتحال سے دوچار لاہور، شیخوپورہ، پھولنگر، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ اور کوٹ رادھا کشن سمیت دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوب گئے، نشتر ٹا ئون میں اب تک سب سے زیادہ 147 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سڑکیں اور چوک زیر آب آنے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی جبکہ لیسکو کے 170 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر جانے سے چوبرجی پارک، ڈیفنس، مغلپورہ سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی، موسلادھار بارش سے جناح ہسپتال کی ایمرجنسی کی چھت ٹپکنے لگی، بارش کا پانی او پی ڈی سمیت مختلف وارڈز اور راہداری میں بھی آگیا۔ ادھر کوٹ مومن، ظفر وال، جلالپور بھٹیاں اور گردونواح میں بھی موسلادھار بارش نے مشکلات بڑھا دیں جبکہ سیلاب متاثرہ دیہات میں ریلیف اور بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہوگئے،چنیوٹ اور اطراف کے علاقوں میں طوفانی بارش کے بعد شہر دوبارہ ڈوب گیا اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔چنیوٹ، وزیر آباد ،گجرات، ننکانہ صاحب اور نارووال میں بارشوں کے بعد نشیبی علاقوں کی صورت حال خراب ہے، جہلم میں ندی نالے بپھر گئے، مدرسے کی چھت پر پھنسے بچوں کو بچا لیا گیا۔ملتان میں موسلا دھار بارش کے باعث رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی، یز بارش کے باعث ٹیپو سلطان کالونی، حسن پروانہ، رشید آباد اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ اندرون شہر بھی کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔جہلم شہر اور گرد و نواح میں بارش سے ندی نالے بپھر گئے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، ندی نالوں کا پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ پشاور میں بارش کے باعث بڈھنی نالہ میں طغیانی آگئی جس سے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ، متھرا اور ملحقہ علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ ورسک روڈ پر ماربل فیکٹریوں میں بھی پانی بھر گیا۔وارسک روڈ پر ہا ئوسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے پر شہریوں کو کشتیوں میں ریسکیو کرنا پڑا۔ ناصر باغ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ مالاکنڈ میں بٹ خیلہ شہر اور گردونواح میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ برساتی نالے میں کار پھنسنے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر سوات ایکسپریس وے بند کردی گئی۔لاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث مختلف مقامات پر گھروں کی چھتیں گرنے سے ملبے تلے دب کر 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ہیئر کے علاقے اسماعیل پورہ،بیدیاں روڈ پر ایک گھر کی خستہ حال چھت گرنے سے 60 سالہ رمضان صوفی، 18 سالہ دعا فاطمہ اور7 سالہ بچی کرن ملبے تلے دب کر جاں بحق اور 25 سالہ مافیا زبیر، 15 سالہ سلمان اختر، 20 سالہ نازیہ اقبال اور 25 سالہ اکرام اختر شدید زخمی ہوگئے۔پرانی انار کلی کے علاقے میں چھت گرنے سے 30 سالہ نوجوان فیضان علی جاں بحق ہوگیا۔ ملکوال کے قصبہ رکن میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 9 ماہ کا بچہ جاں بحق، جبکہ باپ گل خان اور ماں زخمی ہوگئی۔ پشاور میں ایک کچے مکان کی چھت گرنے سے بچی جاں بحق جبکہ دوسرے مکان کی دیوار گرنے سے شہری زخمی ہوا۔ادھر سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے علاقہ ہمبوکے میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے 22سالہ یونس کی لاش مل گئی جبکہ سیالکوٹ کے علاقہ کوٹ منڈیاں والا میں نامعلوم شخص کی پانی میں ڈوبی ہوئی لاش ملی ہے۔پنجاب میں شدید بارشوں اور دریا ئوں میں پانی کے غیر معمولی اضافے کے باعث سیلابی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی، لاکھوں افراد متاثر جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور گھربار تباہ ہو گئے، کئی شہر، گا ئوں اور بستیاں منہ زور سیلابی ریلوں کی یلغار کے باعث ڈوب گئیں اور لوگ کھلے آسمان تلے سڑکوں پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہا ئو 1 لاکھ 29 ہزار کیوسک پر آگیا،تاہم بلوکی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے،وہاں 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک سے زائد کا ریلہ گزر رہا ہے۔تمام اسپل ویز کھول دئیے گئے، اطراف کے کئی گا ئوں اور مویشی متاثر ہوگئے، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں۔مانگا منڈی اور گا ئوں ملہی سے 15 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ نارووال میں نہر ایم آر لنک کا بند ٹوٹ گیا، نہری پانی قریبی گا ئوں میں داخل ہوگیا، 20 کے قریب دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ننکانہ صاحب میں ہفت مدر کے قریب بند میں شگاف پڑگیا، پانی شہری علاقے کی جانب بڑھنے کا خدشہ ہے۔ماموں کانجن کے مقام پر بھی دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی ، جس نے راوی کنارے کئی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں پھر سے اضافہ ہوگیا،درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے ،ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 1لاکھ 75ہزار 674کیوسک اور اخراج1 لاکھ 52 ہزار 206 کیوسک ریکارڈکیا گیا ہے۔دریائے چناب سے ریلا سیالکوٹ، وزیر آباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانے کے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا۔متاثرہ علاقوں میں کئی افراد محصور ہیں جنہیں ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ جھنگ میں 135 دیہات سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔ سرگودھا روڈ بھی 2 سے 3 فٹ سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہے۔گوجرانوالہ، چنیوٹ اور وزیر آباد میں بارش سے پانی اور بڑھ گیا جس سے کئی ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں۔دریائے چناب میں دریائے جہلم اور راوی کا پانی شامل ہونے سے ہیڈ محمد والا ملتان میں سات سے ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک پانی کا بڑا ریلا بن جائے گا اس لئے ملتان اور مظفر گڑھ کے شہری آبادیوں کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پر شگاف لگانے کیلئے بارودی مواد نصب کیا گیا ہے۔ملتان میں سیلاب سے تحصیل شجاع آباد کی فصلوں میں پانی داخل ہوگیا، 140 دیہات پانی سے متاثر ہوئے۔ادھر مظفرگڑھ میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جس سے ہزاروں ایکڑ پر موجود فش فارمز بھی زیرِ آب آنے کا امکان ہے۔چنیوٹ کے 144 موضع جات میں شہری 8 سے 10فٹ پانی میں گھر گئے، یہ گا ئوں مرکزی سے سڑک سے کم از کم 7 کلومیٹر اندر جاکر واقع ہیں، ریسکیو اہلکار کشتیاں لے کر انھیں بچانے گئے لیکن یہ آسان کام نہیں تھا کیونکہ پانی کے لیے کئی ایسی چیزیں تھی جو نظر نہیں آ رہی تھیں، سڑک کے کنارے لگی رکاوٹیں جن سے کشتی کے پیندے ٹکرا رہے تھے، سیلاب ی میں کشتی چلانا بھی دشوار کام تھا۔دریائے ستلج کے ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا آیا جہاں پانی کا بہا ئو 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔قصور شہر بچانے کے لیے آر آر اے ون بند توڑ دیا گیا ہے۔ قصور میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کے جوان رات بھر متاثرین سیلاب کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے۔ پاک فوج کی جانب سے آبادی کو بچانے کیلئے جھنگ اور فیصل آباد میں تین مقامات پر بند میں شگاف ڈالے گئے ہیں،بند میں شگاف ڈالنے کے بعد ایک تا ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی نیچے کی سمت منتقل ہو گیا۔پاک فوج کے جوان متاثرین سیلاب کو ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔فیصل آباد کے متاثرہ دیہات میں پھنسے 15ہزار800افراد میں سے 14ہزار50 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔تیز بارشوں اور دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ہرچوکی کے قریب حفاظتی بند ٹوٹ گیا،پانی تیزی سے قریبی فصلوں اور دیہات میں داخل ہوگیا۔مقامی افراد کے مطابق متاثرین خوراک اور مویشیوں کے چارے سے محروم ہیں جبکہ انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کی امدادی کارروائی تاحال شروع نہیں کی گئی۔ بہاولنگر میں بند ٹوٹنے کے باعث سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا جس سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں اور مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔پاکپتن میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں بابا فرید پل کے مقام سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ وہاڑی میں بھی دریائے ستلج کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس کے باعث موضع کھچی سمیت دیگر علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے، آئندہ چوبیس گھنٹے ہیڈ اسلام کے لئے خطر ناک قرار دئیے جا رہے ہیں۔ضلع جہلم کی تحصیل دینہ کے علاقے ڈومیلی میں منی ڈیم کا بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔ادھر دریائے سندھ میں پانی کا بہا ئو بلند ہونے لگا، نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے،حکومتِ سندھ کی توجہ پنجند پر مرکوز ہے جہاں پنجاب سے آنے والے دریائے راوی، چناب اور ستلج کا پانی جمع ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ یہ پانی گدو کے مقام پر سندھ کی حدود میں داخل ہو جائے گا، جہاں ’سپر فلڈ‘ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس سے 16 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی میں فلڈ کنٹرول روم کا افتتاح کردیا اور کہا پانی بیراجوں کی گنجائش کے مطابق ہی آنا ہے، ابھی کوئی صورتحال ایسی نہیں کہ کہیں بند میں شگاف ڈالنا پڑے، ڈیٹا کے مطابق فی الحال چیلنجنگ صورتحال نہیں، اگربرسات نہیں ہوتی تو صورتحال معمول پر رہنیکی توقع ہے، فی الحال شہروں کو کوئی خطرہ نہیں۔بیراج حکام کے مطابق سکھر بیراج کے مقام پر 24 گھنٹوں میں 31 ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 15 ہزار 172 کیوسک اور پانی کا اخراج 2 لاکھ 60 ہزار 512 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے مون سون کا نواں سپیل 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور کہا ہے آئندہ چند روز تک وقفے وقفے سے جاری رہنے والے بارش کے سلسلے سے مزید علاقوں میں سیلابی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج موسلادھار بارش سے لاہوراسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ،سیالکوٹ ، نارووال، پشاور ، نوشہرہ اور مردان کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کاخدشہ ہے۔گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش حافظ آباد 182، منڈی بہا ئوالدین 105،شیخوپورہ میں 98ملی میٹر ریکارڈ کی گئی