امریکی سینیٹ نے اخراجات کا بل ایک بار پھر مسترد کر دیا جس کے نتیجے میں امریکا میں شٹ ڈاؤن نافذ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شٹ ڈاؤن کے باعث 400 سے زائد وفاقی ایجنسیاں غیر معینہ مدت کے لیے بند رہیں گی۔وائٹ ہاؤس نے اس صورتحال کا ذمہ دار ڈیموکریٹک پارٹی کو قرار دیا ہے۔ سینیٹ کے سو ارکان میں بل کی منظوری کے لیے ساٹھ ووٹ درکار تھے تاہم حکمراں جماعت کے پاس صرف تریپن ووٹ موجود تھے۔ اس سے قبل ڈیموکریٹس کا پیش کردہ بل بھی مسترد ہو چکا تھا جس کے حق میں 47 اور مخالفت میں 53 ووٹ پڑے تھے۔یاد رہے کہ امریکا میں نیا مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور بجٹ کی منظوری نہ ہونے کے باعث شٹ ڈاؤن کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس سے قبل 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں سب سے طویل 35 روزہ شٹ ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔