سندھ کے کسانوں کے حوالے سے ہے جنہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد اپنے زمینیں، فصلیں اور روزگار کھو دیے ہیں۔
کسانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا یہ نقصان جرمنی کی توانائی اور سیمنٹ بنانے والی کمپنیوں آر ڈبلیو ای (RWE) اور ہائیڈلبرگ (Heidelberg) کی جانب سے پھیلائی گئی آلودگی کی وجہ سے ہوا ہے۔کسانوں نے ان کمپنیوں کو باقاعدہ نوٹس بھیج دیے ہیں، جن میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان کے نقصان کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ دسمبر میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں دنیا کی بڑی آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں میں شامل ہیں اور انہیں اپنے نقصان کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔
کسانوں کا اندازہ ہے کہ ان کا نقصان تقریباً 10 لاکھ یورو سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زمینیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور فصلیں، خاص طور پر چاول اور گندم کی فصلیں، ضائع ہو گئی ہیں۔دوسری جانب جرمن کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانونی نوٹس پر غور کر رہی ہیں اور اس معاملے میں کارروائی کر رہی ہیں۔یہ کیس ایک اہم ماحولیاتی اور قانونی معاملہ بن سکتا ہے، جہاں ماحولیاتی آلودگی اور کسانوں کے حقوق کا موضوع زیر بحث ہے۔