ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پورے جنوبی ایشیا میں منہ کے کینسر کی شرح پاکستانی مردوں میں سب سے زیادہ ہے۔
ملک میں اس کینسر کی شرح تقریباً 4 فیصد ہے، جبکہ کراچی میں گٹکے کے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کراچی میں ہر پانچواں شخص گٹکا، مین پوری یا ماوا کا عادی ہے۔ شرافی گوٹھ پولیس نے 2021 میں محمد طاہر نامی ملزم کو گرفتار کیا، جن کے گھر سے بھاری مقدار میں گٹکا، ماوا بنانے کا سامان اور دیگر کیمیکلز برآمد ہوئے۔ سندھ ہائی کورٹ میں ملزم کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی، مگر عمومی طور پر گٹکے کے کاروبار میں ملوث ملزمان سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق صرف 5 فیصد گرفتار ملزمان کو عدالت سزائیں دے پاتی ہے، جس کی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن ہے۔ سندھ پولیس کے مطابق، حالیہ اجلاس میں گٹکا اور ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس کاروبار کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔