اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے چینی ماہر امورِ خارجہ ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستان کے مؤقف کی حمایت قرار دیا۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے انڈس واٹر ٹریٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اس خطے میں کسی کو بھی پاکستان کے بنیادی مفادات، بالخصوص اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چین کے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں دریائے سندھ کے آزادانہ بہاؤ پر پاکستانی عوام کے حق کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ پاکستان کے بنیادی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ڈاکٹر وکٹر گاؤ، جو سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن (CCG) کے صدر ہیں، نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے اس کا مکمل احترام اور تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ چین کو سندھ طاس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے، جس سے معاہدے کے مؤثر نفاذ اور علاقائی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی بات کی تھی تو انہوں نے بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں اس مؤقف کی کھل کر مخالفت کی تھی اور بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اس بیان کو شیئر کیے جانے کو پاکستان کے آبی حقوق اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔