بھارتی ریاست گجرات میں مزید مساجد اور مزارات مسمار کیے جانے کے بعد اقلیتی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گجرات کے ضلع کچھ میں چند روز کے دوران تین مساجد اور متعدد مزارات مسمار کیے گئے۔ مقامی رہائشیوں اور کمیونٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل کوئی پیشگی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔مقامی افراد کے مطابق مساجد اور مزارات کی مسماری پر وضاحت طلب کرنے والے مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے 25 نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات موجود ہیں۔ بعض تنظیموں کا مؤقف ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں اقلیتی برادری کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔سیاسی و سماجی امور کے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدامات نے بھارت میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔