پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق لاہور میٹرو کارپوریشن نے 121 ملین روپے کی اسٹریٹ لائٹس بغیر کسی ٹینڈر کے خریدیں۔
ان خریداریوں کا ریکارڈ آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو فراہم نہیں کیا گیا اور اسٹریٹ لائٹس نصب کرنے کے منصوبے کا اندراج بھی ریکارڈ رجسٹر میں نہیں کیا گیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، میٹرو کارپوریشن لاہور نے مالی سال 2019-2020 میں اس خریداری کے دوران غیر قانونی اقدامات کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خریداری تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھی کیونکہ بغیر کسی ٹینڈر کے اسٹریٹ لائٹس خریدنا اور ان کا ریکارڈ آڈٹ میں پیش نہ کرنا شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا ریکارڈ کی غفلت یا جان بوجھ کر گم ہونے کے پیچھے کوئی بڑی مالی بے ضابطگیاں ہیں۔یہ انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میٹرو کارپوریشن میں مالی بدعنوانیاں اور انتظامی غفلت موجود تھیں، جس سے حکومت کی مالی کارکردگی اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آڈٹ کی کمی اور غیر قانونی خریداریوں کا ریکارڈ گم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ممکنہ طور پر بدعنوانی کی سرگرمیاں ہوئی تھیں۔