تاریخ کی نظر:ڈریگن اورعقاب کامکالمہ

سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)
دنیاکی جدیدتاریخ میں شایدہی کبھی ایسالمحہ آیاہوکہ ایک کم عمرتہذیب امریکا،جو بمشکل ڈھائی صدیوں کی تاریخ رکھتاہے،ایک ایسی قوم کے مقابل کھڑی ہوجوپانچ ہزاربرس کی تہذیبی روایات کی امین ہے۔یہ وہی تصادم ہے جورفتاراورگہرائی کے درمیان ہوتاہے؛ایک طرف جدیدیت کی چمک،دوسری طرف حکمت کی جڑیں۔یہ محض طاقت کی کشمکش نہیں بلکہ زمانوں کامکالمہ ہے۔مغرب کاغرور، مشرق کی صبرآزمافراست کے سامنے۔چین کی تہذیب،جوکنفیوشس کی تعلیمات،ہان دورکے نظم وضبط،اورصدیوں کی اجتماعی عقل کا مظہر ہے،کسی عارضی معاشی بحران سے گھبراتی نہیں۔
یہ تمدن تاریخ کووقت کے پیمانے پرنہیں بلکہ نسلوں کے تسلسل پرپرکھتاہے۔اوریہی وہ مقام ہے جہاں امریکاکاغرورجوصنعتی انقلاب اورنوآبادیاتی ورثے سے پروان چڑھا،پہلی باروقت کی گہرائی سے خائف ہوا۔ 
ٹرمپ نے ایک دن غرورکے بام پرکھڑے ہوکراعلان کیاتھا،’’میں چین کی معیشت کوتباہ کردوں گا،یہ کبھی نہیں اٹھے گی‘‘۔یہ وہی لہجہ تھاجس میں کبھی نوآبادیاتی حکمران بات کیا کرتے تھے۔ایک گرج جویقین سے زیادہ خوف کی علامت ہوتی ہے۔تاہم یہ جملہ تاریخ کے کانوں میں ایک بازگشت کی طرح گونجا،جیسے روم نے کارتہیج کے خلاف،یابرطانیہ نے متحدہ ہندستان کے خلاف اعلان کیاتھامگریہ عزم دراصل خوف کی آوازتھی،کیونکہ طاقتورکبھی للکارتانہیں،مطمئن رہتاہے۔ٹرمپ کالہجہ اس امریکی خوداعتمادی کاآخری مظہرتھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعددنیاپرمسلط ہوئی مگریہ بھی یادرہے کہ ہرطاقت جب عروج پرپہنچتی ہے توزوال کابیج بھی اسی میں پنپتاہے۔
مگروقت نے کروٹ لی،اوروہی شخص جودھمکیوں کامیناربن کرکھڑاتھا،اب نرمی کے لفظوں میں پناہ ڈھونڈرہاتھا۔وہی ٹرمپ،جوکل دھمکیاں دیتاتھا،آج تعریف کے لہجے میں پناہ ڈھونڈرہاتھا۔یہ منظرمحض ایک ملاقات نہیں تھابلکہ طاقت کی نفسیات کاعکاس تھا۔یہ وہی کیفیت تھی جونیپولین کوروس کے دروازے پر،یابرطانوی سامراج کو1947میں برصغیر سے رخصت ہوتے وقت پیش آئی تھی۔تعریف دراصل عجزکاپہلااظہارہوتی ہے۔یہ سفارت نہیں،سرِتسلیم خم کرنے کی شائستہ صورت تھی۔ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے،ہچکچاتے ہوئے کہا’’آپ عظیم ہیں،آپ ایک وژنری ہیں‘‘۔یہ الفاظ سفارت کے نہ تھے بلکہ سرِ تسلیم خم کرنے والے کی خاموش آہ تھے۔یہ شرافت نہیں، شکست کامہذب روپ تھا۔
شی جن پنگ کی خاموشی کسی کمزوری کی نہیں بلکہ تہذیبی بلوغت کی علامت تھی۔چین کی قیادت نے صدیوں سے یہ سیکھاہے کہ جوقوم صبرجانتی ہے،وہ وقت کواپناغلام بنالیتی ہے۔یہ
سکون وہی ہے جوچواین لائی کی مسکراہٹ میں تھاجب مغرب نے طنزکیا،یا ڈینگ شیاوپنگ کے تحمل میں جب انہوں نے کہا’’بلی کارنگ اہم نہیں،چوہاپکڑتی ہے یانہیں،یہی اصل بات ہے‘‘۔دوسری جانب ژی، جیسے کسی مرقعِ صبرکاپیکرہو۔چہرے پرسکون،آنکھوں میں وقت کااعتماد۔اسے کچھ کہنے،کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ تاریخ خوداس کے لہجے میں بول رہی تھی۔
کبھی امریکاخوراک کابادشاہ تھا؛مارشل پلان سے یورپ کوسنبھالا،عالمی بینک کوقابومیں رکھامگراب وہی سپرطاقت کادعوی کرنے والاٹرمپ ہاتھ پھیلائے چین سے کہہ رہا تھا ’’ہمیں سویابین دوتاکہ ہمارے کسان زندہ رہیں‘‘۔اورٹیرف میں نرمی کی التجاکی۔یہ وہی امریکاتھاجوکبھی دنیاکے معاشی منبرپربادشاہت کرتاتھا،اورآج چین سے ریلیف کی درخواست کررہاتھا۔یہ محض تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی منظرنامے کی تبدیلی تھی۔ژی نے محض کہا’’ہم دیکھیں گے کہ آپ کیسابرتاؤکرتے ہیں‘‘۔تاریخ کی سب سے مدبر مگرانتہائی گہری تنبیہ تھی۔یہ جملہ نہیں،ایک تہذیب کی برتری کااقرارتھا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب احمدندیم قاسمی کی یہ بات یادآتی ہے:
میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
چپ بھی توبیان مدعاہے
یہ وہی امریکاتھاجوکبھی دنیاکے معاشی منبرپربادشاہت کرتاتھا،اورآج چین سے ریلیف کی درخواست کررہاتھا۔امریکاجس نے ٹیکنالوجی کی بالادستی کواپنی میراث سمجھا،نایاب زمینی معدنیات،جو جدید دنیا کی رگِ حیات ہے یہی وہ مادے ہیں جن سے موبائل، جنگی طیارے،سیمی کنڈکٹرز،اورمصنوعی ذہانت کے آلات بنتے ہیں،آج چین سے وہی مانگ رہاتھا اوریہ سب چین کے پاس ہیں۔
تاریخ نے یہاں فیصلہ لکھ دیاطاقت اب بارودسے نہیں،مٹی سے نکلتی ہے۔پھروہ موڑآیاجب طاقت کے ترازونے فیصلہ لکھ دیا۔ٹرمپ نے چین سے کہا’’ہمیں نایاب زمینی معدنیات دوتاکہ ہم اپنے جہازاڑاسکیں، اپنے کارخانے چلا سکیں‘‘۔یہ اعتراف تھاکہ مغرب کی صنعت کا دل اب مشرق کی مٹی میں دھڑکتاہے۔یہ چارالفاظ،شایدپچھلی دوصدیوں کی مغربی سامراجی گفتگوکاسب سے مختصرجواب تھے۔جہاں مغرب"حکم دیتا"تھا،وہاں اب مشرق "سوچنے"لگا۔یہی لمحہ تھاجب دنیانے محسوس کیاکہ فیصلہ اب نیویارک یالندن میں نہیں،بیجنگ میں ہوتاہے۔ژی نے سکون سے کہا،’’ہم اس پرغورکریں گے‘‘۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے جان لیاکہ اب فیصلہ کرنے والاکون ہے۔طاقت نے زبان بدل لی تھی،  گرج سے نہیں، خاموشی سے۔مغرب نے جب بھی کسی قوم سے بات کی،پابندیوں کی زبان میں کی۔چین نے جواب میں تعاون اورتجارت کی زبان اختیار کی۔ افریقا،لاطینی امریکااورایشیانے یہ فرق محسوس کیااوررفتہ رفتہ عالمی مرکزعقاب کے پنجوں سے نکل کراژدھے کی گرفت میںآنے لگا۔یہ وہی اصول ہے جوسلجوقی دانشوروں نے کہاتھا:جوہاتھ تلوارتھامتاہے،وہ دل نہیں جیتتا۔
مغرب اپنی برتری کے زخم چاٹتا رہا، پابندیوں کے ہتھیار سنبھالتا رہامگرچین نے ہاتھ بڑھایاشراکت داری کے ساتھ،تجارت کے وعدے کے ساتھ۔یورپ سننے لگا۔افریقہ پہلے ہی قریب تھا۔اوردنیا،بغیرجشن منائے،خاموشی سے اپنے محوربدلنے لگی۔نیاعالمی نظام ٹوٹا نہیں؛اس نے صرف اپنامحوربدل لیا۔اب پیداوار،معدنیات،اورٹرانسپورٹ کی راہیں مشرق سے گزرتی ہیں۔جیسے کبھی سلک روڈ سے دنیاکی معیشت بہتی تھی،ویسے ہی آج بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹونے اس روایت کوجدید قالب میں زندہ کردیا۔یہ تاریخ کی واپسی تھی  مگرنئے لباس میں۔یہ عالمی نظام نہیں ٹوٹا،بلکہ ارتقاپذیرہوا۔دنیاکاکششِ ثقل کامرکزمشرق کی سمت کھسک گیا۔اب زمین کے نایاب خزانے،صنعت کے کارخانے،اور لچک کے ستون،سب چین کے ہاتھ میں تھے۔
’’آزادی،جمہوریت،قیادت‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جوکبھی صدرولسن،روزویلٹ،اورکینیڈی کے زمانے میں معانی رکھتے تھے۔آج یہ الفاظ سرمایہ دارانہ نظام کی پراپیگنڈامشینری کی گونج بن چکے ہیں۔دنیااب نعرے نہیں،رسداورپیداوارکے توازن کودیکھتی ہے۔یہ وہ دورہے جہاں فلسفہ نہیں،فیکٹریاں فیصلہ کرتی ہیں۔امریکااب بھی آزادی، قیادت،اور جمہوریت کے ترانے گاتاہے،مگریہ وہ نغمے ہیں جوگزرے عہدکے ریڈیوپربجتے ہیں۔نیادورنعروں سے نہیں،سپلائی چین (Supply Chain)سے چلتاہے۔
ٹرمپ اس ملاقات سے فاتح نہیں،شاہدبن کرلوٹا۔اس کے چہرے پروہی تاثرتھاجوکبھی رومن سفیرنے مشرق کے درباروں میں دیکھاتھاکہ یہاں جنگ نہیں جیتی جاتی،وقت جیتاجاتاہے۔۔اس تہذیب کے عروج کاشاہد جونظم وضبط سے جیتتی ہے،نہ کہ غلبے سے۔چین کی قیادت کی سب سے بڑی طاقت اس کاغیرجذباتی طرزِعمل ہے۔یہ قوم بولتی کم ، کرتی زیادہ ہے۔یہ وہی اصول ہے جوچینی فلسفے’’تاازم میں صدیوں سے لکھاہے‘‘جوسب سے خاموش ہے،وہی سب سے گہراہے‘‘۔یہی سکوت طاقت کی زبان بن چکا ہے۔
ژی کومسکرانے کی حاجت نہ تھی،اس کاسکوت ہی فتح کی مہرتھاکیونکہ اصل طاقت قدم نہیں جماتی،فضامیں تحلیل ہوجاتی ہے۔یہ وہ خاموش قوت ہے جوچلتی نہیں،مگردنیااس کے بغیر رک جاتی ہے۔چین نے غصے سے نہیں بلکہ مہارت سے عروج پایا۔ عقاب امریکا ابھی تک پروازپرنازاں ہے،مگرفضاکی سمت بدل چکی ہے۔یہ منظرتاریخ کے اس موڑکی یاددلاتا ہے جب روم اپنی شان میں مدہوش تھااوربازنطینی مشرق نئی بصیرت کے ساتھ ابھررہاتھا۔اژدہاغصے سے نہیں،مہارت سے اٹھاہے اورعقاب،جوکبھی آسمانوں کابادشاہ تھا اب دھندلکے میں بے سمت منڈلارہاہے،نہ دشمن سامنے،نہ اعتمادپیچھے۔(جاری ہے)