اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف اپنی موقف کو مضبوط بنانے کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ نئے اتحاد قائم کر رہا ہے۔
یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل اب صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے، علاقائی سطح پر بھی اپنی سیکیورٹی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے نئے دوست اور اتحادی تلاش کر رہا ہے۔نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اسرائیل خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے سرگرم ہے، اگرچہ انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ یہ ممکن ہے کہ اسرائیل ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرے جن کے مفادات ایران کے خلاف مشترکہ ہیں، جیسا کہ سعودی عرب، امارات، اور دیگر عرب ریاستیں، جنہوں نے حالیہ برسوں میں ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف اپنی پوزیشن میں نرمی اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔نیتن یاہو کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جلد یا بدیر ایرانی حکومت کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں، جو کہ ایران کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ان کا سخت موقف ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل ایران کے سیاسی نظام کو بدلنے یا اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے مستقبل میں مزید اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات میں شامل ہیں:علاقائی اتحاد میں اضافہ، جو ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کر سکتے ہیں۔ایران کے خلاف نئی فوجی اور سفارتی حکمت عملی کی تشکیل۔خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی، جس سے اسرائیل اور اس کے نئے اتحادیوں کو علاقائی سیکیورٹی میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعلقات اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا سبب بنیں، جو کہ گذشتہ سالوں میں معمول کے تعلقات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔مجموعی طور پر، یہ خبر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں سیاسی اور سیکیورٹی کے حالات بدل رہے ہیں اور اسرائیل اپنی علاقائی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے فعال حکمت عملی اپنا رہا ہے۔