پاکستان بھر میں بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) اور ایڈز کے کیسز سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وزارتِ قومی صحت نے متاثرہ بچوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں، جن کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
وزارتِ قومی صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 3 ہزار 900 ہے، جبکہ پنجاب میں 1 ہزار 765 بچے اس مرض سے متاثر ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک بچے میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔یہ اعداد و شمار پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کے سوال پر وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے فراہم کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ایچ آئی وی کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارتِ قومی صحت کی ستمبر 2026 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار 214 ہے۔ ان میں سے 92 ہزار 148 مریض رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 67 ہزار 878 افراد اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) حاصل کر رہے ہیں۔رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد اور علاج کے لیے رجسٹرڈ مریضوں کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، مریضوں کی رجسٹریشن اور علاج تک رسائی اہم اقدامات ہیں۔