بالی ووڈ اداکارہ نورا فتیحی کو 200 کروڑ بھارتی روپے کے مبینہ بھتہ خوری کیس میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر دہلی کی عدالت نے طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اداکارہ کو 2 نومبر کو پیش ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کے مطابق نورا فتیحی کا نام اس مقدمے میں دائر کی گئی تیسری ضمنی چارج شیٹ میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ مبینہ طور پر نوسربازی اور بھتہ خوری میں ملوث سکیش چندرشیکھر سے متعلق ہے، جس پر تقریباً 200 کروڑ بھارتی روپے ہتھیانے کا الزام ہے۔تحقیقات کے مطابق سکیش چندرشیکھر نے 2020 اور 2021 کے دوران دہلی کی روہنی جیل میں قید ہونے کے باوجود خود کو اعلیٰ سرکاری عہدیدار ظاہر کیا اور سابق رینبیکسی پروموٹر شیوندر موہن سنگھ کی اہلیہ آدیتی سنگھ سے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی۔الزام ہے کہ سکیش چندرشیکھر نے آدیتی سنگھ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کے شوہر کی جیل سے رہائی کا انتظام کروا سکتا ہے، جس کے عوض اس نے تقریباً 200 کروڑ روپے حاصل کیے۔
دہلی پولیس کے اکنامک آفینسز ونگ (EOW) نے اس مبینہ بھتہ خوری کی تحقیقات کے بعد مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (MCOCA) کے تحت چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی تھی۔نورا فتیحی اس سے قبل بھی سکیش چندرشیکھر اور اس کی اہلیہ لینا ماریا پالوس سے مبینہ رابطوں کے حوالے سے تفتیشی حکام کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔ اکنامک آفینسز ونگ نے اداکارہ سے پوچھ گچھ کے دوران ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا۔اداکارہ نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ سکیش چندرشیکھر سے ان کا رابطہ اس کی اہلیہ کے ذریعے ہوا تھا۔ حکام نے ان سے دسمبر 2020 میں چنئی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے حوالے سے بھی سوالات کیے تھے۔