ضلعی ایجنسیاں مقامی آب و ہوا سے مطابقت والے درختوں کی شجرکاری کرینگی
لاہور ( خصوصی رپورٹ)پی ایچ اے نے صوبے میں سبز علاقوں کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے بائیو ڈائیورسٹی کوریڈورز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی پی ایچ اے نے ضلعی منیجنگ ڈائریکٹرز کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بائیو ڈائیورسٹی کوریڈورز دراصل سبزہ زاروں پر مشتمل ایسی پٹی نما گزرگاہیں ہیں جو مختلف مقامات پر موجود الگ تھلگ سبز علاقوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ ان کے ذریعے پودوں، بیجوں اور دیگر قدرتی اجزا کی ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک منتقلی میں مدد ملتی ہے، جس سے نباتاتی افزائش اور قدرتی ماحول کی بحالی ممکن ہوتی ہے۔منصوبے کے تحت ضلعی ایجنسیاں مقامی آب و ہوا اور زمین سے مطابقت رکھنے والے درختوں کی شجرکاری کریں گی۔ اس مقصد کے لیے شہتوت، برگد اور شیشم جیسے مقامی النسل درختوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔مقامی درختوں کے انتخاب کی وجہ ان کی قدرتی ماحول سے مطابقت ہے۔ یہ درخت نسبتاً کم پانی اور محدود نگہداشت کے باوجود بہتر نشوونما کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کو خوراک، سایہ اور قدرتی مسکن بھی فراہم کرتے ہیں۔پی ایچ اے کی جانب سے ضلعی اداروں کو شجرکاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔