مہنگائی کا جن بے قابو، پھلوں،سبزیوں اور برائلر کی مہنگے داموں فروخت جاری

مہنگائی کا جن بے قابو، پھلوں،سبزیوں اور برائلر کی مہنگے داموں فروخت جاری

لاہور  میں مہنگائی کا سلسلہ تھم نہ سکا، سرکاری نرخ نامے کے باوجود سبزیوں، پھلوں اور مرغی کے گوشت کی من مانے داموں فروخت جاری ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

 دکانداروں کی جانب سے سرکاری نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کیے جانے کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت سرکاری قیمت 541 روپے فی کلو کے بجائے 650 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے صارفین کو فی کلو 109 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔سبزیوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی سامنے آرہی ہے۔ میتھی 110 روپے کے بجائے 130 روپے فی کلو، ٹماٹر 140 روپے کے بجائے 160 روپے، لہسن 230 روپے کے بجائے 400 روپے اور ادرک 375 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔اسی طرح آلو کی سرکاری قیمت 50 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 80 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ شملہ مرچ 170 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ مٹر کی قیمت بھی 440 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔پھلوں کی قیمتوں میں بھی شہریوں کو ریلیف نہ مل سکا۔ پپیتا 280 روپے کے بجائے 350 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ کیلا 180 روپے فی درجن، امرود 300 روپے فی کلو اور مسمی 165 روپے کے بجائے 200 روپے فی درجن میں فروخت ہو رہی ہے۔

مزید برآں شکرقندی کی سرکاری قیمت 90 روپے فی کلو کے مقابلے میں 110 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ انگور 900 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے دکانوں اور بازاروں میں آویزاں ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کرایا جا رہا۔ دکاندار اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرکے صارفین سے اضافی رقم وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے روزمرہ اشیائے خورونوش خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ پرائس کنٹرول اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں میں قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، سرکاری نرخ نامے سے زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔