پلک تیواری اور ابراہیم علی خان کا رشتہ ختم ہونے کی خبریں

پلک تیواری اور ابراہیم علی خان کا رشتہ ختم ہونے کی خبریں

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پلک تیواری اور اداکار ابراہیم علی خان کے درمیان مبینہ طور پر تین سال سے جاری تعلق ختم ہونے کی خبریں سامنے آگئی ہیں۔

 بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں اداکاروں نے باہمی رضامندی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔پلک تیواری اور ابراہیم علی خان کے درمیان قربت کی خبریں پہلی مرتبہ 2022 میں سامنے آئی تھیں۔ دونوں کو مختلف تقریبات، پارٹیوں اور دیگر مواقع پر ایک ساتھ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کے درمیان رومانوی تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ اگرچہ دونوں نے کبھی اپنے تعلق کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ان کی ایک ساتھ موجودگی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔تازہ بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان علیحدگی کے فیصلے میں ابراہیم علی خان نے پہل کی۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق گزشتہ کچھ عرصے سے مشکلات کا شکار تھا اور دونوں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے خواہش مند تھے۔ تاہم علیحدگی کی حتمی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔

دونوں اداکاروں کے قریبی حلقوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث ان خبروں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پلک تیواری اور ابراہیم علی خان کے ایک مشترکہ فلمی منصوبے کی شوٹنگ فی الحال جاری نہیں ہے۔ بعض رپورٹس میں فلم کی شوٹنگ میں تاخیر کو دونوں کے مبینہ بریک اپ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم منصوبے میں تاخیر کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔دوسری جانب مبینہ علیحدگی کے باوجود دونوں اداکاروں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات، فلمی کیریئر اور مستقبل کے منصوبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پلک تیواری بھارتی ٹیلی ویژن اداکارہ شویتا تیواری کی صاحبزادی ہیں، جبکہ ابراہیم علی خان بالی ووڈ اداکار سیف علی خان اور امریتا سنگھ کے بیٹے ہیں۔ 2024 میں پلک تیواری کی والدہ شویتا تیواری نے بیٹی کے مبینہ تعلق سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے، کیونکہ ایسی خبروں کا اثر زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتا۔