26 نومبر احتجاج کے مقدمات میں پی ٹی آئی قیادت اور وکلا کا ورکرز کو تنہا چھوڑنے کا انکشاف

26 نومبر احتجاج کے مقدمات میں پی ٹی آئی قیادت اور وکلا کا ورکرز کو تنہا چھوڑنے کا انکشاف

ویب ڈیسک: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے مقدمات کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی قیادت اور وکلاء کی جانب سے ورکرز کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔

 عدالت میں پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا، جس کے باعث عدالت نے 26 نومبر احتجاج کے دو مقدمات میں اسٹیٹ کونسل مقرر کر دیے۔جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے کیس کی سماعت کی اور کہا کہ اگر وکیل پیش ہوتا ہے تو عدالت جرح کرتی ہے، لیکن وکیل نہ ہونے پر جرح ممکن نہیں۔ مقدمہ نمبر 976 میں کفایت اللہ ایڈووکیٹ کو اسٹیٹ کونسل مقرر کیا گیا، جنہوں نے استغاثہ کے 6 گواہوں پر جرح مکمل کر لی ہے۔آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر اور اسسٹنٹ کمشنر پر جرح کی جائے گی۔ مقدمہ میں نامزد ملزم عثمان علی کی بریت کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی ہے۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر محمد عثمان رانا نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے ریکوری ہوئی ہے اور شناخت پریڈ بھی ہوئی، اس لیے ملزم کی درخواست خارج کی جائے۔عدالت نے ملزم کو ہدایت کی ہے کہ اگلی تاریخ پر ہر صورت جرح کرے۔ دونوں مقدمات کی سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف تھانہ رمنا میں دو مقدمات درج ہیں، جو پیس فل اسمبلی اور پبلک آڈر ایکٹ کے تحت ہیں۔