عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی معیشت زوال پذیر حالت میں ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کے ترقی کے دعوے حقیقت سے دور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباؤ اور ایرانی جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی شیئرز مارچ 2020 کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے، جبکہ بینکوں کے حصص میں 2.5 فیصد تک کمی ہوئی۔بھارت کے نجی شعبے کی نمو تین سال کی کمزور ترین شرح پر آ گئی، جبکہ جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد رہ گئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.3 فیصد تک پہنچ گیا۔عالمی ماہرین نے کہا کہ مودی کی حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں نے بھارت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔