دوسرے شہروں میں بسنت منانے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے:درخواستگزار کا مئوقف
پتنگوں پر تصاویر اور نک دا کوکا گانے پر پابندی کیخلاف درخواست بھی سماعت کیلئے منظور
لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے پورے پنجاب کی بجائے صرف لاہور میں بسنت منانے کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے 3 فروری کوجواب طلب کرلیا۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے سائلہ اشباء کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ پنجاب حکومت نے بسنت تہوار منانے کیلئے قانون بنایا، قانون پورے صوبہ کیلئے بنایا جاتا ہے ، حکومتی مشینری صرف لاہور میں بسنت منانے کیلئے اقدامات پر لگی ہے، دوسرے شہروں میں بسنت منانے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے، عوام کا پیسہ صرف ایک شہر میں بسنت فیسٹیول منانے کیلئے خرچ کیا جارہا ہے ، حکومت کو بلا تفریق بسنت فیسٹیول کیلئے اقدامات کا حکم دیا جائے۔عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت 3 فروری کو طلب کر لیا۔ دوسری جانب لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شیخ امتیاز کی جانب سے دائر پتنگوں پر تصاویر اور نک دا کوکا گانے پر پابندی کیخلاف درخواست بھی سماعت کیلئے منظور کر لی۔درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے سیاسی شخصیات کی تصویر والی پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کی ،فحش گانوں کی فہرست میں نک دا کوکا گانا بھی بلاجواز شامل کیا،عدالت ان اقدامات کو کالعدم قرار دے۔ جسٹس ملک اویس خالد نے استفسار کیاکہ درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟ اظہر صدیق نے بتایاکہ درخواستگزار کا تو پتہ نہیں، یہ گانا میں بھی گنگنائوں گا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،اس درخواست پر پہلے اعتراض عائد کیا گیا تھا۔