پتنگ، ڈور سازی ، ہوٹلنگ، کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ ، مقامی خدمات ،سیاحت کے شعبے عروج حاصل کرینگے
اوورسیزپاکستانی بھی بسنت کاتہوار دوبارہ منانے کی اجازت ملنے پر پرجوش ، پاکستان آنے کی منصوبہ بندی
لاہور( کرائم رپورٹر)25سال بعد آئندہ سال فروری میں منائے جانے والے بسنت کے تہوار سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک اندازے کے مطابق 8سے10ارب روپے کی معاشی سر گرمیاں ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پتنگ، ڈور سازی ، ہوٹلنگ، کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ ،متفرق مقامی خدمات اور سیاحت کے شعبے کے ماہرین کے مطابق دو دہائیاں قبل بسنت کے تہوار سے صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3سے 5ارب روپے کی معاشی سر گرمیاں ہوتی تھیں۔ بیشک بسنت کا تہوار طویل عرصے کے بعد ہو رہا ہے اور اس وقت کی نوجوان نسل جوآج 40سے60کی عمر کو پہنچ گئی ہے تاہم ماضی کی بسنت کے قصے کہانیوں کی وجہ سے آج کی نوجوان نسل بسنت منانے کے لئے پر جوش ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں بسنت کا تہوار منانے والے بہت سے نوجوان جو روزگار کے لئے اب بیرون ممالک منتقل ہو چکے ہیں وہ بسنت کاتہوار دوبارہ منانے کی اجازت ملنے پر پرجوش ہیں اور پاکستان میں چھٹیاں منانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے معاشی سرگرمیاں عروج حاصل ہونے کا امکان ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بسنت کے تہوار کے اعلان کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع اورسندھ کے بعض اضلاع خصوصاًکراچی سے لوگوں کی بڑی تعداد کی صوبائی دارالحکومت لاہور آمد متوقع ہے۔